تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 53
تاریخ احمدیت جلدا ۵۲ ولادت بچین اور تعلیم ایک معمر ہندو جاٹ کی شہادت ایک معمر ہندو جاٹ کی (جس نے آپ کو گود میں کھلایا بھی ہے) شہادت ہے کہ : ” جب سے اس ( مراد حضرت مسیح پاک - ناقل) نے ہوش سنبھالا ہے بڑا ہی نیک رہا۔دنیا کے کسی کام میں نہیں لگا۔بچوں کی طرح کھیل کود میں مشغول نہیں ہوا۔شرارت ، فساد، جھوٹ ، گالی کبھی اس میں نہیں۔ہم اور ہمارے ہم عمر اس کو ست اور سادہ لوح اور بے عقل سمجھا کرتے تھے کہ یہ کس طرح گھر بہائے گا۔سوائے الگ مکان میں رہنے کے اور کچھ کام ہی نہیں تھا۔نہ کسی کو مارا نہ آپ مار کھائی۔نہ کسی کو برا کہا نہ آپ کو کہلوایا۔ایک عجیب پاک زندگی تھی مگر ہماری نظروں میں اچھی نہیں تھی۔نہ کہیں آنا نہ جانا۔نہ کسی سے سوائے معمولی بات کے بات کرنا۔اگر ہم نے کبھی کوئی بات کہی کہ میاں دنیا میں کیا ہو رہا ہے تم بھی ایسے رہو۔اور کچھ نہیں تو کھیل تماشہ کے طور پر ہی باہر آیا کرو تو کچھ نہ کہتے ہیں کے چپ ہو رہتے۔تم عقل پکڑو کھاؤ کماؤ کچھ تو کیا کرو۔یہ سن کر خاموش ہو رہتے آپ کے والد مجھے کہتے۔نمبر دارا غلام احمد کو بلا لاؤ سے کچھ سمجھا دیں گے۔میں جاتا بلالا تا۔والد کا حکم سن کر اسی وقت آ جاتے اور چپ چاپ بیٹھ جاتے اور نیچی نگاہ رکھتے۔آپ کے والد فرماتے بیٹا غلام احمد ا ہمیں تمہارا بڑا فکر اور اندیشہ رہتا ہے تم کیا کر کے کھاؤ گے) اس طرح زندگی تم کب تک گذارد گے۔تم روزگار کرد کب تک دامن بنے رہو گے۔خورونوش کا فکر چاہئے۔دیکھو دنیا کماتی کھاتی پیتی ہے کام کاج کرتی ہے۔تمہارا بیاہ ہو گا بیوی آرے (می) بالک بچے ہوں گے وہ کھانے پینے پہننے کے لئے طلب کریں گے۔ان کا تعمیر تمہارے ذمہ ہو گا۔اس حالت میں تو تمہارا بیاہ کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔کچھ ہوش کرو۔اس غفلت اور اس سادگی کو چھوڑ دو۔میں کب تک بیٹھا رہوں گا۔بڑے بڑے انگریزوں، افسروں، حاکموں سے میری ملاقات ہے وہ ہمار الحاظ کرتے ہیں۔میں تم کو چٹھی لکھ دیتا ہوں تم تیار ہو جاؤ یا کہو تو میں خود جاکر سفارش کروں۔تو مرزا غلام احمد کچھ جواب نہ دیتے۔وہ بار بار اسی طرح کہتے۔آخر جواب دیتے تو یہ دیتے کہ ابا بھلا بتاؤ تو سہی کہ جو افسروں کے افسر اور مالک الملک احکم الحاکمین کا ملازم ہو ا د ر اپنے رب العالمین کا فرمانبردار ہو۔اس کو کسی کی ملازمت کی کیا پروا ہے۔ویسے میں آپ کے حکم سے بھی باہر نہیں۔مرزا غلام مرتضی صاحب یہ جواب سن کر خاموش ہو جاتے اور فرماتے اچھا بیٹا جاؤ۔اپنا خلوت خانہ سنبھالو۔جب یہ چلے جاتے تو ہم سے کہتے کہ یہ میرا بیٹا ملاں ہی رہے گا۔میں اس کے واسطے کوئی مسجد ہی تلاش کر دوں جو دس میں من دانے ہی کما لیتا مگر میں کیا کروں یہ تو ملاگری کے بھی کام کا نہیں۔ہمارے بعد یہ کس طرح زندگی بسر کرے گا۔ہے تو یہ نیک صالح مگر اب زمانہ ایسوں کا نہیں چالاک آدمیوں کا ہے پھر آبدیدہ ہو کر کہتے کہ جو حال پاکیزہ غلام احمد کا ہے وہ ہمارا کہاں ہے۔یہ شخص زمینی