تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 51 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 51

تاریخ احمدیت۔جلدا ولادت ، بچپن اور تعلیم حضرت محی الدین ابن عربی کی ایک پیشگوئی کے مطابق تو ام پیدا ہوئے تھے۔آپ پانچ بہن بھائی تھے۔سب سے بڑی آپ کی ہمشیرہ حضرت مراد بیگم تھیں جو مرزا محمد بیگ کے عقد زوجیت میں آئیں اور بڑی عابدہ اور صاحب رویا و کشف خاتون تھیں۔ان سے چھوٹے مرزا غلام قادر صاحب مرحوم تھے۔ان سے چھوٹے آپ کے ایک اور بھائی تھے جو بچپن میں ہی فوت ہو گئے۔ان سے چھوٹی حضور کے ساتھ تو ام پیدا ہونے والی بہن تھیں جن کا نام جنت تھا اور جو بہت جلد فوت ہو گئیں۔حضرت اقدس" کے بھائی بہنوں میں قریباً دو دو سال کا تفاوت تھا۔حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ علیہ الصلوۃ والسلام کی ولادت سے تین برس پیشتر مجدرصدی میزدہم حضرت سید احمد بریلوی اور اسمعیل شہید بالاکوٹ میں جام شہادت نوش فرما چکے تھے اور آپ کی ولادت کے وقت عیسائیت کا سیلاب جو ۲۲ جون ۱۸۱۳ء سے اشاعت تبلیغ کے اجازت نامے کے بعد (پنجاب کے سوا) پورے ہندوستان کو محیط ہو رہا تھا۔پنجاب کے کناروں تک آپہنچا تھا چنانچہ ٹھیک ۱۸۳۵ء میں ہندوستان کے گورنر جنرل لارڈ ولیم بٹنگ کی رائے اور برطانوی سکیم کے عین مطابق پادری جے سی لوری نے انگریزی مملکت کی سرحد پر لدھیانہ میں پنجاب کا پہلا عیسائی مشن قائم کیا۔جہاں برطانوی پولیٹیکل ایجنٹ کیپٹن ریڈ (Captain Wade) نے پہلے سے ایک عیسائی سکول قائم کر رکھا تھا۔پس کیا ہی عجیب خدائی تصرف ہے کہ جو نہی جے سی لوری "باب لد یعنی لدھیانہ تک پہنچے خدا تعالٰی نے کا سر صلیب پیدا کر دیا۔ادھر زہر پیدا ہوئی اور ادھر اس کا تریاق نمودار ہو گیا۔پنجاب میں جہاں حضور کی پیدائش ہوئی مہاراجہ رنجیت سنگھ بر سر اقتدار تھا۔جس نے ۱۸۰۲ء میں بھنگی مسل کے سرداروں سے امرت سر پر قبضہ کر کے مہاراجہ کا لقب اختیار کر لیا۔اور پھر قصور ، جموں کانگڑہ ، اٹک ، جھنگ ، ملتان ، ہزارہ، بنوں اور پشاور تک کے علاقے زیر نگیں کرلئے۔۱۸۱۶-۱۸۱۷ء میں رام گڑھیوں کو شکست دے کر قادیان کی ریاست بھی اپنی عملداری میں شامل کرلی۔لیکن حضرت بانی کی پیدائش سے چند ماہ قبل حضرت مرز اغلام مرتضی صاحب کو قادیان کے ارد گرد کے پانچ گاؤں ان کی خاندانی ریاست میں سے انہیں واپس کر دیے۔اس طرح چند ماہ قبل آپ کے خاندانی مصائب و مشکلات کے دور کو فراخی اور کشائش میں بدل ڈالا اور آپ کی پیدائش خاندان کے لئے مادی اعتبار سے بھی باعث صد برکت ثابت ہوئی۔چنانچہ حضرت اقدس کی والدہ ماجدہ آپ کو مخاطب کرتے ہوئے اکثر فرمایا کرتی تھیں کہ ہمارے خاندان کے مصیبت کے دن تیری ولادت کے ساتھ پھر گئے اور فراخی میر آگئی۔اور اسی لئے وہ آپ کی پیدائش کو نہایت مبارک سمجھتی تھیں۔