تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 50
تاریخ احمدیت جلدا ولادت بچین اور تعلیم بعد) قادیان ضلع گورداسپور (بھارت) میں پیدا ہوئے۔حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی طرح آپ کی یدائش میں بھی ندرت اور معجزانہ رنگ تھا۔کیونکہ آپ عالم اسلام کے مشہور صوفی کی تاریخ پیدائش ۱۴ شوال ۱۲۵۰ هجری مطابق ۱۳ فروری ۱۸۳۵ء عیسوی ہے جیسا کہ نقشہ ذیل سے ظاہر ہو گا۔تاریخ اور سن عیسوی تاریخ چاند معه من اجری دن تاریخ ہندی مینه معه من بکرمی ۴ فروری ۱۸۳۱ ۲۰- شعبان ۱۲۴۶ هجری جمعہ ۱۷- فروری ۱۸۳۲ء۔رمضان کے ۱۲۳ ہجری ے پھاگن ۱۸۸۷ بکرم یکم بھا گن ۱۸۸۸ بکرم ۸ فروری ۱۸۳۳ء ۱۲۲۸/۱۷ ہجری ۴۔بھاگن ۱۸۸۹ بکرم ۲۸ فروری ۶۱۸۳۴ ۱۸ شوال ۱۲۴۹ هجری ۵- بھاگن ۱۸۹۰ بکرم ۱۳ فروری ۱۸۳۵ء ۱۳ شوال ۱۳۵۰ هجری یکم۔پھاگن ۱۸۹۱ بکرم ۵- فروری ۱۸۳۶ء ۱۷ شوال ۱۲۵۱ هجری ۳- بھاگن ۱۸۹۲ بکرم ۲۴ فروری ۱۸۳۷ء ۱۸- ذیقعده ۱۳۵۲ ہجری ۹- فروری ۱۸۳۸ء ۲۰ ذیقعده ۱۳۵۳ هجری ۴- پھاگن ۱۸۹۳ یکرم ۷- پھاگن ۱۸۹۴ بگرم یکم فروری ۱۸۳۹ء ۱۵ ذیقعده ۱۲۵۴ هجری ۲۱ فروری ۶۱۸۳۰ ۱۶ ذی الحج ۱۳۵۵ هجری بھا گن ۱۸۹۵ یکرم بھاگن ۱۸۷۶ بکرم توفیقات الهامیه مصری و تقویم عمری ہندی) اس نقشہ کی رو سے ۱۸۳۲ء عیسوی کی تاریخ بھی درست سمجھی جاسکتی ہے مگر دوسرے قرائن سے جن میں سے بعض اوپر بیان ہو چکے ہیں اور بعض آگے بیان کئے جائیں گے۔صحیح یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیدائش ۱۸۳۵ء عیسوی میں ہوئی تھی۔پس ۱۳- فروری ۱۸۳۵ و عیسوی مطابق -۱۴ شوال ۱۳۵۰ هجری بروز جمعہ والی تاریخ صحیح قرار پاتی ہے اور اس حساب کی رو سے وفات کے وقت جو ۲۴۔ربیع الثانی ۱۳۳۹ هجری (اختبار الحکم ضمیمہ مورخہ ۲۸ مئی ۱۹۰۸ء) میں ہوئی۔آپ کی عمر پورے ۷۵ سال 4 ماہ اور دس دن بنتی ہے۔میں امید کرتا ہوں۔کہ اب جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیدائش کی تاریخ معین طور پر معلوم ہو گئی ہے۔ہمارے احباب اپنی تحریر و تقریر میں ہمیشہ اسی تاریخ کو بیان کیا کریں گے۔تا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تاریخ پیدائش کے متعلق کوئی ابہام اور اشتباہ کی صورت نہ رہے۔اور ہم لوگ اس بارے میں ایک معین بنیاد پر قائم ہو جائیں۔اس نوٹ کے ختم کرنے سے قبل یہ ذکر بھی ضروری ہے۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک الہام میں یہ بتایا گیا تھا کہ آپ کی عمر اسی یا اس سے پانچ چار کم یا پانچ چار زیادہ ہوگی (حقیقتہ الوحی صفحہ ۹۹) اگر اس الہام الہی کے لفظی معنی لئے جائیں تو آپ کی عمر پچھتر ۷۵ چھتر یا اسی یا چوراسی۔پچاسی سال کی ہونی چاہئے بلکہ اگر اس الہام کے معنی کرنے میں زیادہ لفظی پابندی اختیار کی جائے تو آپ کی عمر پورے ساڑھے چھتریا اس یا ساڑھے چوراسی سال کی ہونی چاہئے اور یہ ایک عجیب قدرت نمائی ہے کہ مندرجہ بالا تحقیق کی رو سے آپ کی عمر پورے ساڑھے پچھتر سال بنتی ہے۔اسی ضمن میں یہ با تبھی قابل نوٹ ہے کہ ایک دوسری جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی پیدائش کے متعلق بحث کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت آدم سے لے کر ہزار ششم میں سے ابھی گیارہ سال باقی رہتے تھے۔کہ میری ولادت ہوئی اور اسی جگہ یہ بھی تحریر فرماتے ہیں کہ خدا تعالٰی نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ابجد کے حساب کے مطابق سور والعصر کے اعداد سے آنحضرت کا زمانہ نکلتا ہے جو شمار کے لحاظ سے ۴۷۳۹ سال بنتا ہے (دیکھو تحفہ گولڑویہ صفحہ ۹۵٬۹۴۹۳ حاشیہ) یہ زمانہ اصولاً اجرت تک شمار ہونا چاہئے۔کیونکہ ہجرت سے نئے دور کا آغاز ہوتا ہے۔اب اگر یہ حساب نکالا جائے۔تو اس کی رو سے بھی آپ کی پیدائش کا سال ۱۳۵۰ھ بنتا ہے۔کیونکہ ۶۰۰۰ میں سے انکالنے سے ۵۹۸۹ رہتے ہیں اور ۵۹۸۹ میں سے ۳۹ ۴۷ منہا کرنے سے ۱۲۵۰ بنتے ہیں۔گویا اس جہت سے نبھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی پیدائش کے متعلق مندرجہ بالا حساب صحیح قرار پاتا ہے۔(مطبوعہ " الفضل " قادیان الساگست ۱۹۳۶ء صفحه ۳) نصوص الحکم صفحہ ۳۶ ترجمہ مولانا الفاضل محمد مبارک علی مطبوعہ ۵۱۳۰۸