تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 637
تاریخ احمدیت جلدا ۶۳۶ مقدمہ اقدام قتل اور بریت دیکھتا۔ایسا ہی کپتان ڈگلس صاحب نے عین عدالت میں ڈاکٹر کلارک کے رو برو مجھ کو کہا کہ میں آپ پر کوئی الزام نہیں لگاتا۔چوتھی مماثلت یہ کہ جس روز مسیح نے صلیبی موت سے نجات پائی اس روز اس کے ساتھ ایک چور گرفتار ہو کر سزا یاب ہو گیا تھا۔ایسا ہی میرے ساتھ بھی اسی تاریخ یعنی ۲۳ اگست ۱۸۹۷ء کو اس گھڑی جب میں بری ہوا تو مکتی فوج کا ایک عیسائی بوجہ چوری گرفتار ہو کر اسی عدالت میں پیش ہوا۔چنانچہ اس چور نے تین مہینہ کی قید کی سزا پائی۔پانچویں مماثلت یہ کہ مسیح کے گرفتار کرانے کے لئے یہودیوں اور ان کے سردار کاہن نے شور مچایا تھا۔کہ مسیح سلطنت کا باغی ہے۔اور آپ بادشاہ بننا چاہتا ہے۔ایسا ہی محمد حسین بٹالوی نے عیسائیوں کا گواہ بن کر عدالت میں محض شرارت سے شور مچایا۔کہ یہ شخص بادشاہ بنا چاہتا ہے کہ کہتا ہے کہ میرے مخالف جس قدر سلطنتیں ہیں سب کائی جائیں گی۔چھٹی مماثلت یہ کہ جس طرح پیلاطوس نے سردار کاہن کے بکو اس پر کچھ بھی توجہ نہ کی اور سمجھ لیا کہ مسیح کا یہ شخص پکارشمن ہے اسی طرح کپتان ایچ۔ایم ڈگلس صاحب نے محمد حسین بٹالوی کے بیان پر کچھ بھی توجہ نہ کی اور اس کے اظہار میں لکھ دیا کہ یہ شخص مرزا صاحب کا پکادشمن ہے اور پھر اخیر حکم میں اس کے اظہار کا ذکر تک نہیں کیا۔اور بالکل بیہودہ اور خود غرضی کا بیان قرار دیا۔ساتویں مماثلت یہ ہے کہ جس طرح مسیح کو گرفتاری سے پہلے خبر دی گئی تھی کہ اس طرح دشمن تجھے گرفتار کریں گے اور تیرے قتل کرنے کے لئے کوشش کریں گے۔اور آخر خدا تجھے ان کی شرارت سے بچالے گا۔ایسا ہی مجھے خدا تعالیٰ نے اس مقدمہ سے پہلے خبر دے دی اور ایک بڑی جماعت جو حاضر تھی سب کو وہ الہامات سنائے گئے اور جو حاضر نہیں تھے ان میں سے اکثر احباب کی طرف خط لکھے گئے تھے۔اور یہ لوگ سو سے کچھ زیادہ آدمی ہیں"۔پیلاطوس ثانی کا شاندار کارنامه پیلاطوس ثانی مسٹر ولیم ڈگلس نے چونکہ پیلاطوس اول کے بر عکس بریت کا فیصلہ دے کر عدل و انصاف کا شاندار کارنامہ دکھایا تھا اس لئے حضور نے بھی اس پر خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے کتاب البریہ اور دیگر متعدد تصانیف میں ان کی بیدار مغزی ، منصف مزاجی ، مردانگی ، حق پسندی اور خداتری کی بڑی تعریف فرمائی ہے چنانچہ ایک مقام پر حضور نے لکھا۔” جب تک کہ دنیا قائم ہے اور جیسے جیسے یہ جماعت لاکھوں