تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 638 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 638

تاریخ احمدیت۔جلدا ۶۳۷ مقدمه اقدام قتل اور بریت کروڑوں افراد تک پہنچے گی۔ویسے ویسے تعریف کے ساتھ اس نیک نیت حاکم کا تذکرہ رہے گا۔اور یہ اس کی خوش قسمتی ہے کہ خدا نے اس کام کے لئے اس کو چنا " مسٹر ڈبلیو ایم ڈگلس نے ۲۵ فروری ۱۹۵۷ء کو لنڈن میں انتقال فرمایا۔وفات کے وقت ان کی عمر ۹۳ سال تھی۔اور ان کے ذہن میں آخر تک اس مقدمہ کے واقعات پوری طرح محفوظ تھے اور وہ جب تک زندہ رہے اپنی زندگی کے اس اہم ترین واقعہ کا تذکرہ کرتے رہے اور جب کبھی کوئی احمدی آپ کی ملاقات کے لئے جاتا تو اس واقعہ کی تفصیل ضرور بیان کرتے اور عقیدت آمیز لب ولہجہ میں کہتے کہ میں نے مرزا صاحب کو دیکھتے ہی یقین کر لیا تھا کہ یہ شخص جھوٹ نہیں بول سکتا۔ایک مرتبہ یوم التبلیغ کی تقریب پر انہوں نے مسجد فضل لندن میں اپنی صدارتی تقریر کے دوران جماعت احمدیہ کے نوجوانوں کو یہ پیغام دیا کہ ”مجھ سے بارہا یہ سوال کیا گیا ہے کہ احمدیت کا سب سے بڑا مقصد کیا ہے ؟ میں اس سوال کا یہی جواب دیتا ہوں کہ اسلام میں روحانیت کی روح پھونکنا۔بانی جماعت احمدیہ نے آج سے پچاس برس پیشتر یہ معلوم کر لیا تھا کہ موجودہ زمانہ میں مذہب اور سائنس کا میلان کس طرف ہو گا۔۔۔احمدیت کا ایک مقصد اسلام کو موجودہ زمانے کی زندگی کے مطابق پیش کرنا ہے میں نے جب ۱۸۹۷ء میں بانی جماعت احمدیہ کے خلاف مقدمہ کی سماعت کی تھی اس وقت جماعت کی تعداد چند سو سے زیادہ نہ تھی۔لیکن آج دس لاکھ سے بھی زیادہ ہے پچاس سال کے عرصے میں یہ نہایت شاندار کامیابی ہے اور مجھے یقین ہے کہ موجودہ نسل کے نوجوان اس کی طرف زیادہ توجہ دیں گے اور آئندہ پچاس سال کے عرصہ میں جماعت کی تعداد بہت بڑھ جائے گی"۔سفر ملتان حضرت اقدس علیہ السلام کو ادا ئل اکتوبر میں رویا میں دکھایا گیا کہ آپ ایک انگریز حاکم کے سامنے گواہی دے رہے ہیں۔مگر دستور کے مطابق اس نے آپ کو قسم نہیں دی۔اس کے بعد دوسری خواب میں مزید یہ خبر دی گئی کہ سپاہی سمن لے کر آیا ہے۔حضرت اقدس نے یہ خبر مسجد میں اپنے خدام کو قبل از وقت سنادی تھی۔مگر اس وقت بظاہر کسی مقدمہ کا گمان بھی نہیں تھا کہ چند روز بعد یکایک ایک۔سپاہی سمن لے کر آیا اور معلوم ہوا کہ مولوی رحیم بخش صاحب پرائیویٹ سیکرٹری نواب صاحب بہاولپور نے لاہور کے اخبار ” ناظم البند " پر ازالہ حیثیت عرفی کا دعوی دائر کر دیا ہے اور اخبار کے شیعہ ایڈیٹر جناب سید ناظم حسین صاحب نے آپ کو بطور گواہ صفائی طلب کیا ہے۔