تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 617 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 617

تاریخ احمدیت۔جلدا ۶۱۶ سلطنت ترکی میں انقلاب کی پیشگوئی حال دریافت کیا ہے۔یہ ایک بڑی بات ہے جو توجہ کے لائق ہے کہ حضرت یسوع مسیح ان چند عقائد سے جو کفارہ اور تثلیت اور امنیت ہے ایسے متنفر پائے جاتے ہیں کہ گویا ایک بھاری افتراء جو ان پر کیا گیا ہے وہ یہی ہے یہ مکاشفہ کی شہادت بے دلیل نہیں ہے بلکہ میں یقین رکھتا ہو کہ اگر کوئی طالب حق نیت کی صفائی سے ایک مدت تک میرے پاس رہے اور وہ حضرت مسیح کو کشفی حالت میں دیکھنا چاہے تو میری توجہ اور دعا کی برکت سے وہ ان کو دیکھ سکتا ہے۔ان سے باتیں بھی کر سکتا ہے اور ان کی نسبت ان سے گواہی بھی لے سکتا ہے۔کیونکہ میں وہ شخص ہوں جس کی روح میں بروز کے طور پر یسوع مسیح کی روح سکونت رکھتی ہے"۔نشان نمائی کی پیشکش اس رسالہ میں آپ نے اپنے دعوئی نشان نمائی کا ذکر کرتے ہوئے ملکہ وکٹوریہ کے سامنے بھی پیش کش کی کہ اگر وہ مجھ سے نشان دیکھنا چاہیں ، تو میں یقین رکھتا ہوں کہ ابھی ایک سال پورا نہ ہو کہ وہ نشان ظاہر ہو جائے اور نہ صرف میں بلکہ دعا کر سکتا ہوں کہ یہ تمام زمانہ عافیت اور صحت سے بسر ہو لیکن اگر کوئی نشان ظاہر نہ ہو اور میں جھوٹا نکلوں تو میں اس سزا میں راضی ہوں کہ۔۔۔پایہ تخت کے آگے پھانسی دیا جاؤں یہ سب الحاج اس لئے ہے کہ کاش ہماری محسنہ ملکہ معظمہ کو اس آسمان کے خدا کی طرف خیال آجائے جس سے اس زمانہ میں عیسائی مذہب بے خبر ہے "۔" تحفہ قیصریہ" کے چند مجلد نسخے نہایت دیدہ زیب شکل میں ملکہ وکٹوریہ - وائسرائے ہند۔اور ۲۳ لفٹنٹ گورنر پنجاب کو ارسال کئے گئے۔چونکہ وائس پریذیڈنٹ " جنرل قادیان میں جشن جو بلی کے موقعہ پر احباب کا جلسہ کمیٹی اہل اسلام ہند کی طرف ᎨᏛ۔سے یکم جون کو اعلان شائع ہوا تھا کہ مسلمان ۲۰ اور ۲۱ جون کو جشن منائیں اور اظہار تشکر اور دعا اور خوشی کی جائے اس لئے حضرت اقدس نے ہے۔جون کو بذریعہ اشتہار اپنی جماعت کے دوستوں کو تحریک کی کہ وہ ۲۰۔جون سے قبل قادیان میں پہنچ جائیں۔تا جماعت کی طرف سے جلسہ شکریہ کے مراسم ادا کئے جاسکیں۔چنانچہ ۱۹ جون کو حضرت اقدس کے ۲۲۵ خدام قادیان پہنچ گئے۔اور ” جنرل کمیٹی اہل اسلام ہند کے پروگرام کے مطابق نہایت پر وقار رنگ میں یہ تقریب منائی گئی گئی۔تین دن غریبوں اور در دیشوں کو کھانا کھلایا گیا۔۲۰- جون کو ملکہ اور خاندان شاہی کے لئے اجتماعی دعا کی گئی۔۲۱- جون ۱۸۹۷ء کو ایک بڑی دعوت کا اہتمام کیا گیا اور قادیان کے غرباء اور اور درویش دعوت میں بلائے گئے اس دعوت میں سو سے زائد اشخاص شریک ہوئے ۲۲- جون کی رات کو گلی کوچوں گھروں اور مسجدوں میں