تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 616
تاریخ احمدیت۔جلدا ۱۵ ت ترکی میں انقلاب کی پیشگوئی لندن میں جلسہ مذاہب کے انعقاد کی تجویز حضرت اقدس" نے "تحفہ قیصریہ " "1 میں ملکہ کے سامنے جلسہ مذاہب " کے انعقاد کی تجویز بھی پیش کی۔چنانچہ فرمایا۔قیا صرہ روم میں سے جب تیسرا قیصر ردم تخت نشین ہوا۔اور اس کا اقبال کمال کو پہنچ گیا تو اسے اس بات کی طرف توجہ پیدا ہوئی کہ دو مشہور فرقہ عیسائیوں میں جو ایک موجد اور دو سرا حضرت مسیح کو خدا جانتا تھا یا ہم بحث کرا دے۔چنانچہ وہ بحث قیصر روم کے حضور میں بڑی خوبی اور انتظام سے ہوئی اور بحث کے سننے کے لئے معزز ناظرین اور ارکان دولت کی صدہا کرسیاں بلحاظ رتبہ و مقام کے بچھائی گئیں اور دونوں فریق کے پادریوں کی چالیس دن تک بادشاہ کے حضور میں بحث ہوتی رہی اور قیصر روم بخوبی فریقین کے دلائل سنتا رہا۔اور ان پر غور کرتا رہا۔آخر جو موحد فرقہ تھا اور حضرت یسوع مسیح کو صرف خدا کا رسول اور نبی جانتا تھا وہ غالب آگیا اور دوسرے فرقہ کو ایسی شکست آئی کہ اس مجلس میں قیصر روم نے ظاہر کر دیا کہ میں نہ اپنی طرف سے بلکہ دلائل کے زور سے موحد فرقہ کی طرف کھینچا گیا اور قبل اس کے جو اس مجلس سے اٹھے تو حید کا مذ ہب اختیار کر لیا۔اور ان موحد عیسائیوں میں سے ہو گیا جن کا ذکر قرآن شریف میں بھی ہے اور بیٹا اور خدا کہنے سے دست بردار ہو گیا۔اور پھر تیسرے قیصر تک ہر ایک تخت روم موحد ہو تا رہا۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ ایسے مذہبی جلسے پہلے عیسائی بادشاہوں کا دستور تھا اور بڑی بڑی تبدیلیاں ان سے ہوتی تھیں ان واقعات پر نظر ڈالنے سے نہایت آرزو سے دل چاہتا ہے کہ ہماری قیصرہ ہند دام اقبالہا بھی قیصر روم کی طرح ایسا نہ ہی جلسہ پایہ تخت میں انعقاد فرما دیں کہ یہ روحانی طور پر ایک یاد گار ہوگی مگر یہ جلسہ قیصر روم کی نسبت زیادہ توسیع کے ساتھ ہونا چاہیے۔کیونکہ ہماری ملکہ معظمہ بھی اس قیصر کی نسبت زیادہ وسعت اقبال رکھتی ہیں۔۔۔۔ہاں یہ ضروری ہو گا کہ اس جلسہ مذاہب میں ہر ایک شخص اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے دوسروں سے کچھ تعلق نہ رکھے۔اگر ایسا ہوا تو یہ جلسہ بھی ہماری ملکہ معظمہ کی طرف سے ہمیشہ کے لئے ایک روحانی یادگار ہو گا۔اور انگلستان جس کے کانوں تک بڑی خیانتوں کے ساتھ اسلامی واقعات پہنچائے گئے ہیں ایک بچے نقشہ پر اطلاع پا جائے گا۔بلکہ انگلستان کے لوگ ہر ایک مذہب کی کچی فلاسفی سے مطلع ہو جائیں " -2 ملکہ کے لئے حضرت مسیح کی ملاقات کا آسمانی تحفہ حضرت اقدس نے ملکہ وکٹوریہ " کو اس طرف بھی توجہ دلائی کہ خدا کی عجیب باتوں میں سے جو مجھے ملی ہیں ایک یہ بھی ہے جو میں نے عین بیداری میں جو کشفی بیداری کہلاتی ہے یسوع مسیح سے کئی دفعہ ملاقات کی ہے اور اس سے باتیں کر کے اصل دعوے اور تعلیم کا