تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 615 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 615

پر تاریخ احمدیت۔جلدا पाल سلطنت ترکی میں انقلاب کی پیشگوئی برکت میں چند قدم اور بھی سبقت رکھتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ جن برکتوں اور نعمتوں کی وجہ سے یہ ملک تاج برطانیہ کا حلقہ بگوش ہو رہا ہے اور از انجملہ ایک بے بہا نعمت مذہبی آزادی اس گروہ کو خاص کراسی سلطنت میں حاصل ہے بخلاف دوسرے اسلامی فرقوں کے ان کو اور اسلامی سلطنتوں میں بھی یہ آزادی حاصل ہے اس خصوصیت سے یقین ہو سکتا ہے کہ اس گروہ کو اس سلطنت کے قیام و استحکام سے زیادہ مسرت ہے اور ان کے دل سے مبارکباد کی صدائیں زیادہ زور کے ساتھ موجزن ہیں۔ہم بڑے جوش سے دعا مانگتے ہیں کہ خداوند تعالٰی حضور والا کی حکومت کو اور بڑھائے اور تادیر حضور والا کا نگہبان رہے تاکہ حضور والا کی رعایا کے تمام لوگ حضور کی وسیع سلطنت میں امن اور تہذیب کی برکتوں سے فائدہ اٹھائیں"۔لاہور میں جملہ اہل السلام کی طرف سے شاہی مسجد لاہور میں بھی ایک بھاری اجتماع ہوا جس میں انجمن حمایت اسلام کے ممبروں اور تمام اسلامی فرقوں کے لوگ موجود تھے۔اس اجتماع میں انجمن اسلامیہ کے ممبروں نے بڑی پر جوش اور موثر تقریروں سے قیصرہ ہند کی برکات بیان کیں۔اور ان کی صحت و سلامتی کے لئے دعا کی گئی۔اسی قسم کے اجتماع ہندوستان کے دوسرے شہروں دہلی۔نصیر آباد اور اجمیر وغیرہ میں بھی ہوئے۔پچاس سالہ جو بلی کی طرح ساٹھ سالہ جو بلی بھی گذشتہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے شاندار طریق منائی گئی بلکہ اسے یہ خصوصیت بھی حاصل ہوئی کہ پہلی جوبلی میں اہلحدیث جماعتی اعتبار سے نمایاں نظر آتے تھے۔اب ہندوستان بھر کے مسلمانوں کی ایک جنرل کمیٹی قائم کی گئی جس کی مطبوعہ ہدایات کی روشنی میں ہندوستان کے تمام اسلامی فرقوں نے اظہار مسرت و مبارکباد کیا۔ملکہ کو دعوت اسلام اور تحفہ قیصریہ کی تصنیف اس جشن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور جماعت احمدیہ نے بھی حصہ لیا جو اسلامی عظمت و وقار کے لحاظ سے ایک امتیازی شان رکھتا تھا دوسرے اداروں یا فرقوں نے جوہلی کی تقریب محض چراغاں، غرباء کو طعام ، قیصرہ ہند کی مدح اور حکومت کے بقاء و استحکام کی دعا تک محدود رکھی مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے جوش دینی کے باعث یہ تقریب بھی جو خالص مادی تقریب تھی علمی جہاد میں تبدیل کردی۔اس سلسلے میں حضور نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ ۲۷ مئی ۱۸۹۷ء کو تحفہ قیصریہ" کے نام سے ایک رسالہ شائع کیا جس میں ملکہ وکٹوریہ کو تثلیث سے تائب ہو کر قرآن مجید کی کچی اور پر حکمت تعلیم سے وابستہ ہونے کی نہایت لطیف رنگ میں دعوت دی۔