تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 608 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 608

تاریخ احمدیت جلدا ۶۰۷ سلطنت ترکی میں انقلاب کی پیٹھو کی (مجھ کو حاضر ہونے میں بھی کچھ عذر نہیں مگر بعض حالات میں ظاہری حاضری سے معاف کیا جانے کا مستحق ہوں شاید جولائی ۱۹۹۸ ء سے پہلے حاضر ہی ہو جاؤں۔امید کہ بارگاہ قدس سے بھی آپ کو راضی نامہ دینے کے لئے تحریک فرمائی جائے کہ نسی و لم نجد له عز ما قانون کا بھی یہی اصول ہے کہ جو جرم عمد او جان بوجھ کر نہ کیا جائے وہ قابل راضی نامہ و معافی کے ہوتا ہے۔فاعفوا واصلحوان الله يحب المحسنين۔میں ہوں حضور کا مجرم (دستخط بزرگ) روالپنڈی ۲۹ اکتوبر ۴۶۹۴ راجہ جہاں داد خاں نے حضرت اقدس کی خدمت میں یہ خط بھیجوانے کے علاوہ ہاتھا کام راولپنڈی کے اخبار چودھویں صدی ۸- نومبر۱۸۹۷ء ( صفحہ ۳-۴) میں بھی شائع کروا دیا۔حضرت اقدس نے اس خط پر ۲۰- نومبر ۱۸۹۷ء کو بذریعہ اشتہار اعلان فرمایا کہ خدا تعالی اس بزرگ کی خطا معاف کرے اور اس سے راضی ہو۔میں اس سے راضی ہوں اور اس کو معافی دیتا ہوں چاہیے کہ ہماری جماعت کا ہر ایک شخص اس کے حق میں دعائے خیر کرے " - 1 دوسری پیشگوئی خود حسین کامی کی مجرمانہ خیانت اور اپنے عہدہ سے بر طرفی حسین کامی کی نفاق آمیزی کی نسبت تھی جو خارق عادت رنگ میں پوری ہوئی۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اسی سال یونانیوں نے ترکی کے مقبوضات میں سے ایک جزیرہ کریٹ پر قبضہ کر کے اس کے مسلمان باشندوں کا بے دردی سے قتل عام کیا کہ پورے عالم اسلام پر قیامت گزر گئی اور ہر جگہ چندے ہونے لگے۔مسلمانان ہند نے بھی اپنے مظلوم بھائیوں کی اعانت میں دل کھول کر حصہ لیا اور مدراس کے ترکی سفیر عبد العزیز کے علاوہ حسین کامی مقیم کراچی کو بھی یہ چندہ دیا کہ پہنچا دیں مگر یہ صاحب مظلومان کریٹ کا کل چندہ خود ہی ہضم کر گئے اور ایک کوڑی تک ان ستم رسیدوں تک نہیں پہنچنے دی۔حکومت ترکی کو جب اس قومی غداری کا علم ہوا تو اس نے حسین کامی کو عمدہ سے بر طرف کر کے اس کی جائیداد ضبط کرلی۔اس راز کا انکشاف مشہور ہندی سیاح حافظ عبدالرحمن صاحب امرت سری (۱۸۴۰-۱۹۰۷ء) پر تنطنطنیہ کی سیاحت کے دوران میں ہوا۔جس پر انہوں نے اخبار ” نیر آصفی مدراس کو نامہ نگار کی حیثیت سے اس خبر کی پوری تفصیلات بھیجوا دیں جو ۱۲ اکتوبر۱۸۹۹ء کے ایشوع میں ایک ادارتی نوٹ کے ساتھ بایں الفاظ شائع ہو ئیں۔" چندہ مظلومان کریٹ اور ہندوستان" ہمیں آج کی ولایتی ڈاک میں اپنے ایک معزز اور لائق نامہ نگار کے پاس سے ایک قسطنطنیہ والی