تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 607 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 607

تاریخ احمدیت۔جلدا 4۔4 سلطنت ترکی میں انقلاب کی پیشگوئی لملعون اور مردود ہوں اور کاذب ہوں اور تجھ سے میرا تعلق اور تیرا مجھ سے نہیں۔تو میں تیری جناب میں عاجزانہ عرض کرتا ہوں کہ مجھے ہلاک کر ڈال۔اور اگر تو جانتا ہے کہ میں تیری طرف سے ہوں اور تیرا بھیجا ہوا ہوں اور مسیح موعود ہوں تو اس شخص کے پردے پھاڑ دے جو بزرگ کے نام سے اس اخبار میں لکھا گیا ہے لیکن اگر وہ اس عرصہ میں قادیان میں آکر مجمع عام میں تو بہ کرے تو اسے معاف فرما تو رحیم و کریم ہے۔اس بد دعا میں حضرت اقدس نے یکم جولائی ۱۸۹۷ء سے یکم جولائی ۱۹۹۸ء تک اللہ تعالٰی سے فیصلہ کی درخواست کی۔حضرت اقدس کی دعا قبول ہو گئی جس کی حضرت اقدس کی طرف سے اطلاع عام اطلاع عام کے لئے آپ نے ۲۵- جون ۱۸۹۷ء کو ایک اور اشتہار شائع کیا جس میں یہ سب واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھا ” میرے اشتہار کا بجز اس کے کیا مطلب تھا کہ رومی لوگ تقویٰ اور طہارت اختیار کریں کیونکہ آسمانی قضاء قدر اور عذاب سماوی کے روکنے کے لئے تقویٰ اور توبہ اور اعمال صالحہ جیسی اور کوئی چیز قوی تر نہیں کیا یہ ممکن نہ تھا کہ جو کچھ میں نے رومی سلطنت کے اندرونی نظام کی نسبت بیان کیا وہ دراصل صحیح ہو اور ترکی گورنمنٹ کے شیرازہ میں ایسے دھاگے بھی ہوں جو وقت پر ٹوٹنے والے اور غداری سرشت ظاہر کرنے والے ہوں" - B چودھویں صدی کے " بزرگ کی معافی اب "حسین کامی کی ملاقات کے نتیجہ میں تین پیشگوئیاں پبلک میں آگئیں۔چودھویں صدی" کے بزرگ کی توبہ نہ کرنے کی صورت میں ایک سال میں تباہی۔و حسین کامی کی منافقت اور غداری۔اندرونی نظام کی خرابی کے نتیجے میں سلطنت ترکی میں انقلاب"۔بظاہر حالات ایسے نہیں تھے کہ ان میں سے کوئی پہلو بھی ظاہر ہو تا۔مگر دنیا یہ دیکھ کر دنگ رہ گئی کہ یہ تمام پیشگوئیاں مختصر سے وقفہ کے ساتھ بڑی شان سے پوری ہو گئیں۔پہلی پیشگوئی چودھویں صدی کے بزرگ سے متعلق تھی۔سو راجہ جہاں داد صاحب نے اپنے گناہ کا اعتراف کرتے ہوئے چند ماہ کے بعد معافی کی عاجزانہ درخواست کی۔چنانچہ اس سلسلہ میں انہوں نے ۲۹ اکتوبر ۱۸۹۷ء کو حضرت اقدس کی خدمت میں حد درجہ فروتنی انکسار اور تذلل سے ایک مفصل خط لکھا۔یہ خط ان الفاظ پر ختم ہو تا تھا۔: اس وقت تو میں ایک مجرم گنگار کی طرح آپ کے حضور میں کھڑا ہو تا ہوں اور معافی مانگتا ہوں