تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 609
تاریخ احمدیت۔جلد 4۔A سلطنت ترکی میں انقلاب کی پیشگوئی چٹھی ملی ہے جس کو ہم اپنے ناظرین کی اطلاع کے لئے درج ذیل کئے دیتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے ہمیں کمال افسوس ہوتا ہے افسوس اس وجہ سے کہ ہمیں اپنی ساری امیدوں کے برخلاف اس مجرمانہ خیانت کو جو سب سے بڑی اور سب سے زیادہ منتظم اور مہذب اسلامی سلطنت کے وائس قونصل کی جانب سے بڑی بیدردی کے ساتھ عمل میں آئی اپنے کانوں سے سنا اور پبلک پر ظاہر کرنا پڑا ہے جو کیفیت جناب مولوی حافظ عبدالرحمن الهندی نزیل قسطنطنیہ نے ہمیں معلوم کرائی ہے اس سے صاف ثابت ہو تا ہے کہ حسین بک کامی نے بڑی بے شرمی کے ساتھ مظلومان کریٹ کے روپیہ کو بغیر ڈکار لینے کے ہضم کر لیا اور کارکن کمیٹی چندہ نے بڑی فراست اور عرقریزی کے ساتھ ان سے روپیہ اگلوایا۔مگر یہ دریافت نہیں ہوا کہ وائس قونصل مذکور پر عدالت عثمانیہ میں کوئی نالش کی گئی یا نہیں۔ہماری رائے میں ایسے خائن کو عدالتانہ کارروائی کے ذریعہ عبرت انگیز سزا دینی چاہے "قسطنطنیہ کی چٹھی" te ہندوستان کے مسلمانوں نے جو گذشتہ دو سالوں میں مہاجرین کریٹ اور مجروحین عساکر حرب یونان کے واسطے چندہ فراہم کر کے قونصل ہائے دولت علیہ ترکیہ مقیم ہند کو دیا تھا۔معلوم ہوتا ہے کہ ہر زر چنده تمام و کمال قسطنطنیہ میں نہیں پہنچا اور اس امر کے باور کرنے کی یہ وجہ معلوم ہوتی ہے کہ حسین بک کامی وائس قونصل کرانچی کو جو ایک ہزار چھ سو روپیہ کے قریب مولوی انشاء اللہ صاحب ایڈیٹر اخبار وکیل امرت سر اور مولوی محبوب عالم صاحب ایڈیٹر ” پیسہ اخبار " نے مختلف مقامات سے وصول کر کے بھیجا تھا وہ سب غبن کر گیا ایک کوڑی تک قسطنطنیہ میں نہیں پہنچائی مگر خدا کا شکر ہے کہ سلیم پاشا ملمہ کارکن کمیٹی چندہ کو جب خبر پہنچی تو انہوں نے بڑی جاں فشانی کے ساتھ اس روپیہ کے اگلوانے کی کوشش کی اور اس کے اراضی مملوکہ کو نیلام کراکر وصولی رقم کا انتظام کیا اور باب عالی میں نین کی خبر بھجوا کر نوکری سے موقوف کرایا۔اس لئے ہندوستان کے جملہ اصحاب جرائد کی خدمت میں التماس ہے کہ وہ اس اعلان کو قومی خدمت سمجھ کر چار مرتبہ متواتر اپنے اخبارات میں مشتہر فرما ئیں اور جس وقت ان کو معلوم ہو کہ فلاں شخص کی معرفت اس قدر روپیہ چندہ کا بھیجا گیا تو اس کو اپنے جریدہ میں مشتہر کرا ئیں اور نام مع عنوان کے ایسا مفصل لکھیں کہ بشرط ضرورت اس سے خط و کتابت ہو سکے"۔اس خبر نے "ناظم البند اور دوسرے تمام اخبارات پر بجلی سی گرا دی۔یہ وہ اخبارات تھے جنہوں نے حسین کامی کی شان میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے یہاں تک لکھ ڈالا تھا کہ یہ نائب خلیفتہ