تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 606
تاریخ احمدیت۔جلدا ۶۰۵ سلطنت ترکی میں انقلاب کی پیشگوئی انہوں نے ایک جنگ کے موقعہ پر یہ کہا تھا کہ کوئی خانہ خدا کے لئے بھی خالی رکھنا چاہیے۔لیکن مشیت ایزدی کچھ اور تھی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان سے بوقت ملاقات صاف کہہ دیا کہ "سلطان کی سلطنت کی اچھی حالت نہیں ہے اور میں کشفی طریق سے انکے ارکان کی حالت اچھی نہیں دیکھتا اور میرے نزدیک ان حالتوں کے ساتھ انجام اچھا نہیں"۔نیز اس بات پر بھی زور دیا کہ رومی سلطنت خدا کے نزدیک کئی باتوں میں قصور وار ہے اور خدا ہے تقویٰ اور طہارت اور نوع انسان کی ہمدردی کو چاہتا ہے اور روم کی حالت موجودہ بر بادی کو چاہتی ہے تو بہ کرو تا نیک پھل پاؤ 1 علام حضرت اقدس حسین کامی کا ناظم الہند میں غضب آلود مراسلہ اور عام مخالفت کی زبان مبارک سے یہ الفاظ سن کر حسین کامی صاحب (جنہوں نے قادیان میں اکثر وقت لہو و لعب اور شطرنج میں گزارا) سخت جزبز ہوئے اور واپس آکر اخبار "ناظم الہند میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف ایک غضب آلود مراسلہ شائع کیا جس نے عداوت کی ایک نئی بنیاد ڈال دی اخبارات نے اسے خوب اچھالا اور بڑی کثرت سے اشتہارات میں اس کا چرچا ہوا۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو اس قسم کے موقعہ کی ہمیشہ تاک میں رہتے تھے ” خلیفتہ المسلمین " کی عقیدت و الفت کا واسطہ دے کر مسلمانوں کے جذبات سے خوب کھیلے اور اشتعال انگیزی کی حد کر دی۔چودھویں صدی "کا بزرگ چین کامی صاحب کے خط پر (ضلع راولپنڈی) کے ایک وقع عالم اور رئیس اعظم راجہ جہاں داد خاں صاحب بھی پرا را پیگنڈا کی رو میں بہہ گئے اور نازیبا کلمات آپ کی شان میں کے اور گو انہوں نے از خود تو کوئی مضمون آپ کے خلاف نہ لکھا مگر اخبار "چودھویں صدی " نے انہی کا سہارا لے کر ۱۵- جون ۱۸۹۷ء کے اخبار میں حضرت اقدس کے متعلق نا واجب کلمات لکھے۔حضرت اقدس کو اس کے رد میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں تھی مگر یہ عجیب بات ہوئی کہ جب یہ اخبار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پڑھا گیا تو اس کے دوران میں یہ عبارت بھی آگئی کہ " ایک بزرگ نے جب یہ اشتہار پڑھا تو بے ساختہ ان کے منہ سے یہ شعر نکل گیا۔چوں خدا خواهد که پرده کسی درد میلش اندر طعنه پاکان برد اس مقام پر پہنچ کر حضرت اقدس کی روح میں بد دعا کے لئے ایک خاص جوش اٹھا تب آپ نے اس شخص کے بارے میں جس کو اخبار میں " بزرگ" کے لفظ سے یاد کیا گیا تھا دعا کی کہ "یا الہی اگر تو جانتا ہے کہ میں کذاب ہوں اور اور تیری طرف سے نہیں ہوں اور جیسا کہ میری نسبت کہا گیا ہے tt