تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 605
تاریخ احمدیت جلدا ۶۰۴ سلطنت ترکی میں انقلاب کی پیشگوئی نائب سفیر سلطان ترکی حسین کامی کی قادیان میں آمد اور سلطنت ترکی میں انقلاب کی پیشگوئی مخالفین کا شور و شغب پورے زوروں پر تھا کہ مئی میں آپ کے خلاف مہم چلانے کا ایک نیا بہانہ ان کے ہاتھ آگیا۔حسین کامی کا قادیان میں درود اور حضرت اقدس سے ملاقات واللہ یہ ہوا کہ حسین کامی وائس قونصل ترکی لاہور آئے اور مسلمانان لاہور کی طرف سے خلیفتہ المسلمین سلطان عبد الحمید ثانی سے گہری عقیدت وارادت کے باعث ان کا پر جوش استقبال ہوا اور ڈپٹی برکت علی خاں صاحب شاہجہانپوری صدر انجمن اسلامیہ لاہور کی کوٹھی بیرون موچی دروازہ میں ان کے قیام کا انتظام کیا گیا۔جماعت احمدیہ لاہور کے بعض اصحاب نے ان کی آمد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے ملاقات کی ، پیغام حق پہنچایا اور جماعتی لٹریچر بھی دیا جس سے انہوں نے متاثر ہو کر حضرت اقدس کی خدمت میں ملاقات کے لئے نہایت عاجزی کے ساتھ تحریری درخواست کی اور اس میں حضور علیہ السلام کو ” جناب مستطاب معلی القاب قدرة المحققین قطب العارفین حضرت پیر دستگیر" کے القاب سے یاد کیا۔حسین کامی ۱۰ یا امئی ۱۸۹۷ کو نماز عشاء کے قریب قادیان پہنچے۔دوسرے روز حضرت اقدس اپنے طریق کے خلاف ان کی درخواست پر تخلیہ میں ان سے ملے۔انہوں نے سلطان ترکی کے لئے ایک خاص دعا کی تحریک کی اور یہ بھی چاہا۔کہ آئندہ ان کے لئے جو کچھ قضا و قدر سے آنے والا ہے اس سے مطلع کیا جائے۔حضرت اقدس پر اول ملاقات میں ہی جناب اٹھی کی طرف سے ان کی منافقانہ کیفیت بے نقاب کر دی گئی۔اور ان کی دنیا پرستی کا رنگ آپ پر عیاں ہو گیا۔سلطنت روم کی نسبت کشفی خبر حضرت القدس اگر چہ سلطان عبدالحمید ثانی کی تعریف کرتے ہوئے ان کا یہ واقعہ ہمیشہ سنایا کرتے تھے کہ