تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 41
تاریخ احمدیت جلدا ۰ خاندانی حالات کا خاندان اس وقت تک ملکی حکومت کا خیر خواہ رہا جب تک کہ پورا ملک برطانوی اقتدار کے زیر نگیں نہیں آگیا)۔شہنشاہ بابر کے عہد حکومت کے آخری سال یعنی ۱۵۳۰ء میں ایک مغل مسمی بادی بیگ باشندہ سمر قند اپنے وطن کو چھوڑ کر پنجاب میں آیا اور ضلع گورداسپور میں بودوباش اختیار کی یہ کسی قدر لکھا ڑھا آدمی تھا اور قادیان کے گردو نواح کے ستر مواضعات کا قاضی یا مجسٹریٹ مقرر کیا گیا۔کہتے ہیں کہ قادیان اس نے آباد کیا۔اور اس کا نام اسلام پور قاضی رکھا جو بدلتے بدلتے قادیان ہو گیا۔کئی پشتوں تک یہ خاندان شاہی عہد حکومت میں معزز عہدوں پر ممتاز رہا۔اور محض سکھوں کے عروج کے زمانہ میں یہ افلاس کی حالت میں ہو گیا تھا۔گل محمد اور اس کا بیٹا عطا محمد رام گڑھیہ اور کنہیا مسلوں سے جن کے قبضہ میں قادیان کے گردو نواح کا علاقہ تھا ہمیشہ لڑتے رہے اور آخر کار اپنی تمام جاگیر کو کھو کر عطا محمد بیگووال میں سردار فتح سنگھ اہلو والیہ کی پناہ میں چلا گیا اور بارہ سال تک امن و امان سے زندگی بسر کی۔اس کی وفات پر رنجیت سنگھ نے جو رام گڑھیہ مسل کی تمام جاگیر پر قابض ہو گیا تھا غلام مرتضی کو قادیان واپس بلا لیا۔اور اس کی جدی جاگیر کا ایک بہت بڑا حصہ اسے واپس دے دیا۔اس پر غلام مرتضیٰ اپنے بھائیوں سمیت مہاراجہ کی فوج میں داخل ہوا اور کشمیر کی سرحد اور دوسرے مقامات پر قابل قدر خدمات انجام دیں۔نو نہال سنگھ شیر سنگھ اور دربار لاہور کے دور دورے میں غلام مرتضیٰ ہمیشہ فوجی خدمت پر مامور رہا۔۱۸۴۱ء میں یہ جرنیل ونچورا کے ساتھ منڈی اور کلو کی طرف بھیجا گیا اور ۱۸۴۳ء میں ایک پیادہ فوج کا کمیدان بنا کر پشاور روانہ کیا گیا۔ہزارہ کے مفسدہ میں اس نے کار ہائے نمایاں کئے اور جب ۱۸۴۸ ء کی بغاوت ہوئی تو یہ اپنی سرکار کا نمک حلال رہا اور اس کی طرف سے بڑا۔اس موقعہ پر اس کے بھائی غلام محی الدین نے بھی اچھی خدمات کیں۔جب بھائی مہاراج سنگھ اپنی فوج لئے دیوان مولراج کی امداد کے لئے ملتان کی طرف جا رہا تھا۔تو غلام محی الدین اور دوسرے جاگیر داران لنگر خاں ساہیوال اور صاحب خانہ ٹوانہ نے مسلمانوں کو بھڑکایا اور مصر صاحبدیاں کی فوج کے ساتھ باغیوں سے مقابلہ کیا اور ان کو شکست فاش دی۔ان کو سوائے دریائے چناب کے کسی اور طرف بھاگنے کا راستہ نہ تھا جہاں چھ سو سے زیادہ آدمی ڈوب کر مر گئے۔الحاق کے موقعہ پر اس خاندان کی جاگیر ضبط ہو گئی۔مگر سات سو روپیہ کی ایک پنشن غلام مرتضی اور اس کے بھائیوں کو عطا کی گئی اور قادیان اور اس کے گردو نواح کے مواضعات پر ان کے حقوق مالکانہ رہے۔اس خاندان نے غدر۱۸۵۷ء کے دوران میں بہت اچھی خدمات کیں غلام مرتضی نے بہت سے آدمی بھرتی کئے اور اس کا بیٹا غلام قادر جنرل نکلسن صاحب بہادر کی فوج میں اس وقت تھا جبکہ افسر