تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 40
تاریخ احمدیت جلد؟ ۳۹ خاندانی حالات قوم کی طرح وہ اسیروں کی مانند پکڑے گئے اور ان کے مال و متاع سب لوٹی گئی۔کئی مسجد میں اور عمدہ عمدہ مکانات مسمار کئے گئے۔اور جہالت اور تعصب سے باغوں کو کاٹ دیا گیا۔اور بعض مسجد میں جن میں اب تک ایک مسجد سکھوں کے قبضہ میں ہے دھرم سالہ یعنی سکھوں کا معبد بنایا گیا۔اس دن ہمارے بزرگوں کا ایک کتب خانہ بھی جلایا گیا جس میں پانچ سو نسخہ قرآن شریف کا قلمی تھا جو نہایت بے ادبی سے جلایا گیا۔اور آخر سکھوں نے کچھ سوچ کر ہمارے بزرگوں کو نکل جانے کا حکم دیا۔چنانچہ تمام مرد و زن چھکڑوں میں بٹھا کر نکالے گئے اور وہ پنجاب کی ایک ریاست میں پناہ گزین ہوئے۔تھوڑے عرصہ کے بعد انہی دشمنوں کے منصوبے سے میرے دادا صاحب کو زہر دی گئی۔پھر رنجیت سنگھ کی سلطنت کے آخری زمانہ میں میرے والد صاحب مرحوم مرزا غلام مرتضی قادیان میں واپس آئے اور مرزا صاحب موصوف کو اپنے والد صاحب کے دیہات میں سے پانچ گاؤں واپس ملے۔کیونکہ اس عرصہ میں رنجیت سنگھ نے دوسری اکثر چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو دبا کر ایک بڑی ریاست اپنی بنالی تھی سو ہمارے تمام دیہات بھی رنجیت سنگھ کے قبضہ میں آگئے تھے اور لاہور سے پشاور تک اور دوسری طرف لدھیانہ تک اس کی ملک داری کا سلسلہ پھیل گیا تھا غرض ہماری پرانی ریاست خاک میں مل کر آخر پانچ گاؤں ہاتھ میں رہ گئے۔پھر بھی بلحاظ پرانے خاندان کے میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ اس نواح میں مشہور رئیس تھے۔گورنر جنرل کے دربار میں بزمرہ کرسی نشین رئیسوں کے ہمیشہ بلائے جاتے تھے۔۱۸۵۷ء میں انہوں نے سرکار انگریزی کی خدمت گزاری میں پچاس گھوڑے معہ پچاس سواروں کے اپنی گرہ سے خرید کر دیئے تھے اور آئندہ گورنمنٹ کو اس قسم کی مدد کا عند الضرورت و عدہ بھی دیا اور سرکار انگریزی کے حکام وقت سے بجا آوری خدمات عمدہ عمدہ چٹھیات خوشنودی مزاج ان کو ملی تھیں چنانچه سریپل گریفن صاحب نے بھی اپنی کتاب تاریخ رئیسان پنجاب میں ان کا تذکرہ کیا ہے غرض وہ حکام کی نظر میں بہت ہر دلعزیز تھے۔اور بسا اوقات ان کی دلجوئی کے لئے حکام وقت ڈپٹی کمشنر ان کے مکان پر ان کی ملاقات کرتے تھے " سریپل گریفین اور کرنل میسی کی شہادت سر لیپل گریفین اور کرنل میسی نے (جن کی طرف مندرجہ بالا سطور میں اشارہ ہے) اپنی مشهور و معروف انگریزی کتاب " پنجاب چیفس یا چیفس اینڈ فیمیلیز آف نوٹ ان دی پنجاب میں حضرت اقدس کے خاندانی حالات پر ایک نوٹ لکھا ہے جس کا مستند ترجمہ درج ذیل ہے۔(اس نوٹ سے بالخصوص اس حقیقت پر نمایاں روشنی پڑتی ہے کہ پنجاب کے الحاق کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کی جاگیر باغی سرداروں" کے ساتھ ضبط کر لی گئی تھی اور حضور