تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 42
تاریخ احمدیت۔جلدا ام خاندانی حالات موصوف نے تریمو گھاٹ پر نمبر ۴۶ مینٹو انفنٹری کے باغیوں کو جو سیالکوٹ سے بھاگے تھے تہ تیغ کیا۔جنرل نکلسن صاحب بہادر نے غلام قادر کو ایک سند دی جس میں یہ لکھا ہے کہ ۱۸۵۷ء میں خاندان قادیان ضلع گورداسپور کے تمام دوسرے خاندانوں سے زیادہ نمک حلال رہا۔غلام مرتضیٰ جو ایک لائق حکیم تھا ۱۸۷۶ ء میں فوت ہوا اور اس کا بیٹا غلام قادر اس کا جانشین ہوا۔غلام قادر حکام مقامی کی امداد کے لئے ہمیشہ تیار رہتا تھا۔اور اس کے پاس ان افسران کے جن کا انتظامی امور سے تعلق تھا بہت سے سرٹیفکیٹ تھے۔یہ کچھ عرصے تک گورداسپور میں دفتر ضلع کا سپرنٹنڈنٹ رہا۔اس کا اکلوتا بیٹا کم سنی میں فوت ہو گیا اور اس نے اپنے بھتیجے سلطان احمد کو متبنی کر لیا جو غلام قادر کی وفات یعنی ۱۸۸۳ء سے خاندان کا بزرگ خیال کیا جاتا تھا۔مرزا سلطان احمد نے نائب تحصیلداری سے گورنمنٹ کی ملازمت شروع کی اور اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر کے عہدہ تک ترقی پائی۔یہ قادیاں کا نمبردار بھی تھا۔مگر اس نمبر داری کا کام بجائے اس کے اس کا چچا نظام الدین کرتا تھا جو غلام محی الدین کا سب سے بڑا بیٹا تھا۔مرزا سلطان احمد کو خان بہادر کا خطاب اور ضلع منٹگمری میں پانچ مربعہ جات اراضی عطا ہوئے اور ۱۹۳۰ء میں اس کا انتقال ہو گیا۔اس کا سب سے بڑا لڑکا مرزا عزیز احمد ایم اے اب خاندان کا سر کردہ اور پنجاب میں اکسٹرا اسٹنٹ کمشنر ہے۔خان بہادر مرزا سلطان احمد کا چھوٹا بیٹا رشید احمد ایک اولو العزم زمیندار ہے اور اس نے سندھ میں اراضی کا بہت بڑا رقبہ لے لیا ہے۔نظام الدین کا بھائی امام الدین جس کا انتقال ۱۹۰۴ء میں ہوار ہلی کے محاصرہ کے وقت ہاؤسن صاحب کے رسالہ میں رسالدار تھا ، اس کا باپ غلام محی الدین تحصیلدار تھا"۔سر لیپل گریفن نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذاتی حالات بھی بیان کئے ہیں۔چنانچہ لکھتا ہے: یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ غلام احمد جو مرزا غلام مرتضیٰ کا چھوٹا بیٹا ہے مسلمانوں کے ایک مشہور مذہبی فرقہ احمدیہ کا بانی ہوا۔یہ شخص ۱۸۳۷ء میں پیدا ہوا۔اور اس کو تعلیم نہایت اچھی ملی -۱۸۹۱ء میں اس نے بموجب اسلام مهدی یا مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا۔چونکہ یہ عالم اور منفاقی تھا اس لئے دیکھتے ہی دیکھتے بہت سے لوگ اس کے معتقد ہو گئے اور اب احمد یہ جماعت کی تعداد پنجاب اور ہندوستان کے دوسرے حصوں میں تین لاکھ کے قریب بیان کی جاتی ہے۔مرزا عربی فارسی اور اردو کی بہت سی کتابوں کا مصنف تھا۔جن میں اس نے جہاد کے مسئلہ کی تردید کی۔اور یہ گمان کیا جاتا ہے کہ ان کتابوں نے مسلمانوں پر اچھا اثر کیا ہے۔مدت تک یہ بڑی مصیبت میں رہا۔کیونکہ مخالفین مذہب سے اس کے اکثر مباحثے اور مقدمے رہے۔لیکن اپنی وفات سے پہلے جو ۱۹۰۸ ء میں ہوئی اس نے ایک رتبہ