تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 569 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 569

تاریخ احمدیت۔جلدا ۵۶۸ جلسہ مذاہب عالم " میں اسلام کی شاندار فتح اور جس کو حاضرین جلسہ نے نہایت ہی توجہ اور دلچسپی سے سنا اور بڑا بیش قیمت اور عالی قدر خیال کیا ہم مرزا صاحب کے مرید نہیں ہیں نہ ان سے ہم کو کوئی تعلق ہے لیکن انصاف کا خون ہم کبھی نہیں کر سکتے اور نہ کوئی سلیم فطرت اور صحیح کا شنس اس کو روا رکھ سکتا ہے مرزا صاحب نے کل سوالوں کے جواب (جیسا کہ مناسب تھا) قرآن شریف سے دیئے اور تمام بڑے بڑے اصول و فروع اسلام کو دلائل عقلیہ اور براہین فلسفہ کے ساتھ مبرہن اور مزین کیا۔پہلے عقلی دلائل سے الہیات کے ایک مسئلہ کو ثابت کرنا۔اور اس کے بعد کلام الہی کو بطور حوالہ پڑھنا ایک عجب شان دکھاتا تھا۔مرزا صاحب نے نہ صرف مسائل قرآن کی فلاسفی بیان کی بلکہ الفاظ قرآنی کی فلالوجی اور فلاسوفی بھی ساتھ ساتھ بیان کردی غرضکہ مرزا صاحب کا لیکچر بہ بیت مجموعی ایک مکمل اور حاوی لیکچر تھا جس میں بیشمار معارف و حقائق و حکم واسرار کے موتی چمک رہے تھے اور فلسفہ الیہ کو ایسے ڈھنگ سے بیان کیا گیا تھا کہ تمام اہل مذاہب ششدر رہ گئے۔کسی شخص کے لیکچر کے وقت اتنے آدمی جمع نہیں تھے جتنے کہ مرزا صاحب کے لیکچر کے وقت - تمام ہال اوپر نیچے سے بھر رہا تھا۔اور سامعین ہمہ تن گوش ہو رہے تھے۔مرزا صاحب کے لیکچر کے وقت اور دیگر سپیکروں کے لیکچروں میں امتیاز کے لئے اس قدر کافی ہے کہ مرزا صاحب کے لیکچر کے وقت خلقت اس طرح آگری جیسے شہد پر لکھیاں۔مگر دوسرے لیکچروں کے وقت بوجہ بے لطفی بہت سے لوگ بیٹے بیٹھے اٹھ جاتے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا لیکچر بالکل معمولی تھا۔وہی ملانی خیالات تھے جن کو ہم لوگ ہر روز سنتے ہیں اس میں کوئی عجیب و غریب بات نہ تھی اور مولوی صاحب موصوف کے دوسرے حصہ لیکچر کے وقت پر کئی لوگ اٹھ کر چلے گئے تھے۔مولوی مدروح کو اپنا لیکچر پورا کرنے کے لئے چند منٹ زائد کی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی لیکن مرزا صاحب کے لیکچر پورا کرنے کے لئے لالہ درگا پر شاد صاحب نے آپ سے آپ دس پندرہ منٹ کی اجازت دے دی۔غرضکہ وہ لیکچر ایسا پر لطف اور ایسا عظیم الشان تھا کہ بجز سننے کے اس کا لطف بیان میں نہیں آسکتا۔مرزا صاحب نے انسان کی پیدائش سے لے کر معاد تک ایسا مسلسل بیان فرمایا اور عالم برزخ اور قیامت کا حال ایسا عیاں فرمایا کہ بہشت و دوزخ سامنے دکھا دیا۔اسلام کے بڑے سے بڑے مخالف اس روز اس لیکچر کی تعریف میں رطب اللسان تھے چونکہ وہ لیکچر عنقریب رپورٹ میں شائع ہونے والا ہے اس لئے ہم ناظرین کو شوق دلاتے ہیں کہ اس کے منتظر رہیں۔مسلمانوں میں سے مولوی ثناء اللہ صاحب امرت سری کا طرز بیان بھی کسی قدر اچھا تھا۔لیکن لیکچر عموماً وعظ کی قسم کا تھا۔فلسفیانہ ڈھنگ کا نہیں تھا جس کی جلسہ کو ضرورت تھی۔۔۔۔۔بہر حال اس کا شکر ہے کہ اس جلسہ میں اسلام کا بول بالا رہا۔