تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 568
تاریخ احمدیت جلدا ۵۶۷ جلسہ مذاہب عالم " میں اسلام کی شاندار فتح (کلکتہ) نے کیا۔اور بڑے نمایاں انداز میں اس کی خبر شائع کر کے آپ کو خراج تحسین ادا کیا۔اور اس مضمون کی تعریف میں کالموں کے کالم بھر دیے۔وو اخبار سول اینڈ ملٹری اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ" اور "آبزرور " کار یویو مزے" (لاہور) نے لکھا: اس جلسہ میں سامعین کو دلی اور خاص دلچسپی میرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے لیکچر کے ساتھ تھی جو اسلام کی حمایت و حفاظت میں ماہر کامل ہیں۔اس لیکچر کے سننے کے لئے دور نزدیک سے مختلف فرقوں کا ایک جم غفیر امڈ آیا تھا۔اور چونکہ مرزا صاحب خود تشریف نہیں لا سکتے تھے اس لئے یہ لیکچران کے ایک لائق شاگرد منشی عبد الکریم صاحب فصیح سیالکوٹی نے پڑھ کر سنایا - ۲۷- تاریخ کو یہ لیکچر تین گھنٹہ تک ہو تا رہا اور عوام الناس نے نہایت ہی خوشی اور توجہ سے اس کو سنا۔لیکن ابھی صرف ایک سوال ختم ہوا۔مولوی عبد الکریم صاحب نے وعدہ کیا کہ اگر وقت ملا تو باقی حصہ بھی سنادوں گا۔اس لئے مجلس انتظامیہ اور صدر نے یہ تجویز منظور کرلی ہے کہ ۲۹- دسمبر کا دن بڑھا دیا جائے“۔(ترجمہ) اخبار " پنجاب آبزرور " نے بھی انہیں الفاظ میں حضرت اقدس کے مضمون کی رپورٹ شائع کی 14 اخبار ”چودھویں صدی " روالپنڈی نے لکھا ”ان اخبار "چودھویں صدی " کاریویو لیکچروں میں سب سے عمدہ اور بہترین لیکچر جو جلسہ کی روح رواں تھا مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کا لیکچر تھا جس کو مشہور فصیح البیان مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے نہایت خوبی و خوش اسلوبی سے پڑھا۔یہ لیکچر دو دن میں تمام ہو اے ۲۔دسمبر کو قریباً چار گھنٹے اور ۲۹ کو ۲ گھنٹہ تک ہو تا رہا۔کل چھ گھنٹہ میں یہ لیکچر تمام ہو ا جو حجم میں سو صفحہ کلاں تک ہو گا۔غرضکہ مولوی عبد الکریم صاحب نے یہ لیکچر شروع کیا اور کیسا شروع کیا کہ تمام سامعین لٹو ہو گئے۔فقرہ فقرہ پر صدائے آفرین و تحسین بلند تھی اور بسا اوقات ایک ایک فقرہ کو دوبارہ پڑھنے کے لئے حاضرین سے فرمائش کی جاتی تھی۔عمر بھر کانوں نے ایسا خوش آئند لیکچر نہیں سنا۔دیگر مذاہب میں سے جتنے لوگوں نے لیکچر دیئے۔سچ تو یہ ہے کہ جلسہ کے مستفسرہ سوالوں کے جواب بھی نہیں تھے۔عموماً سپیکر صرف چوتھے سوال پر ہی رہے اور باقی سوالوں کو انہوں نے بہت ہی کم مس کیا اور زیادہ تر اصحاب تو ایسے بھی تھے جو بولتے تو بہت تھے مگر اس میں جاندار بات ایک آدھ ہی ہوتی۔تقریریں عموماً کمزور سطحی خیالات کی تھیں۔بجز مرزا صاحب کے لیکچر کے جو ان سوالات کا علیحدہ علیحدہ مفصل اور مکمل جواب تھا