تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 570 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 570

$ تاریخ احمدیت جلدا " ۵۶۹ جلسہ مذاہب عالم " میں اسلام کی شاندار فتح اور تمام غیر مذاہب کے دلوں پر اسلام کا سکہ بیٹھ گیا۔گو زبان سے وہ اقرار کریں یا نہ کریں"۔الغرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کمال صفائی سے پوری ہوئی اور اسلام کو غلبہ نصیب ہوا۔یہ مقابلہ اس مقابلے کی مانند تھا جو حضرت موسیٰ کو ساحروں کے ساتھ کرنا پڑا۔سب مذاہب والوں نے اپنی اپنی لاٹھیوں کے خیالی سانپ بنائے تھے لیکن جب خدا نے مسیح موعود کے ہاتھ سے اسلامی راستی کا عصا ایک پاک اور پر معارف تقریر کے پیرائے میں ان کے مقابل چھوڑا تو وہ اژدھا بن کر سب کو نگل گیا جلسہ اعظم مذاہب میں اسلام کی اخبار "جنزل و گو ہر آصفی" (کلکتہ) نے ۲۴۔شاندار فتح سے متعلق کلکتہ کے جنوری ۱۸۹۷ء کی اشاعت میں صفحہ ۲ پر " جلسہ اعظم مذاہب" منعقدہ لاہور اور "فتح اسلام" اخبار جنرل و گوہر آصفی کا تبصرہ کے در ہرے عنوان سے لکھا۔"چونکہ ہمارے اخبار کے کالم اس جلسہ کے متعلق ایک خاص دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں لہذا ہم اپنے شائق ناظرین کو اس کے درجہ آخر مختصر حالات سے اطلاع دینی ضروری سمجھتے ہیں۔جہاں تک ہم نے دریافت کیا ہے ہر ایک طالب حق کو اس جلسہ کے حالات معلوم کرنے کے لئے بڑا ہی شائق پایا ہے کون دل ہو گا جو حق کا متلاشی نہ ہو گا۔کون آنکھ ہو گی جو حق کی چمک دیکھنے کے لئے تڑپتی نہ ہو گی ؟ کون دماغ ہو گا جو حق کی جانچ پڑتال کی طرف مائل نہ ہو گا۔پھر ہم یہ کیونکر امید نہیں کر سکتے ، اپنے ناظرین کی روحیں اس جلسہ کی کارروائی کی دریافت کے لئے مضطرنہ ہونگی۔کیا اس ا نظرار کو دفع کرنا ہمارا فریضہ نہیں۔بیشک ہے اور ضرور ہے اور اسی لئے ہے جو ہم نے خاص انتظام کر کے اس جلسہ کے حالات کو دریافت کیا ہے جنہیں ہم اب ہدیہ ناظرین کیا چاہتے ہیں پیشتر اس کے کہ ہم کارروائی جلسہ کی نسبت گفتگو کریں ہمیں یہ بتا دینا ضروری ہے کہ ہمارے اخبار کے کالموں میں جیسا کہ اس کے ناظرین پر واضح ہو گا یہ بحث ہو چکی ہے کہ اس جلسہ اعظم مذاہب میں اسلامی وکالت کے لئے سب سے زیادہ لائق کون شخص تھا۔ہمارے ایک معزز لائق نامہ نگار صاحب نے سب سے پہلے خالی الذہن ہو کر اور حق کو مد نظر رکھ کر حضرت مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان کو اپنی رائے میں منتخب فرمایا تھا۔جس کے ساتھ ہمارے اور ایک مکرم مخدوم نے اپنی مراسلت میں تو اردا اتفاق ظاہر کیا تھا۔جناب مولوی سید محمد فخر الدین صاحب فخر نے بڑے زور کے ساتھ اس انتخاب کی نسبت جو اپنی آزاد مدلل اور بیش قیمت رائے پلک کے پیش فرمائی تھی اس میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان- جناب سرسید احمد صاحب آف علی گڑھ کو انتخاب فرمایا تھا اور ساتھ ہی اس اسلامی وکالت کا