تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 537
تاریخ احمدیت جلدا ۵۳۶ تین عظیم الشان علمی انکشافات کھول دیا تھا کہ وہ اللہ اور رسول کے عاشق زار ہو گئے تھے۔چولہ صاحب جس کمرہ میں تھاوہ زائرین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔درمیان میں ایک بھاری گٹھری پڑی ہم تھی جو قریباً گز بھر اونچی ہوگی۔چولہ صاحب اس کے اند ر تھا۔جب بہت سے رومال کھل چکے تو چند سکھ جو اس وقت وہاں موجود تھے احترام رعقیدت سے سرنگوں ہو گئے اور چولہ صاحب پر نظر پڑتے ہی سجدے میں جا پڑے۔"ست بچن " کی تصنیف و اشاعت الفرض بابا نانک کا تاریخی چولہ اور ان کے مسلمان ہونے کی زندہ شہادت بچشم خود ملاحظہ فرمانے کے بعد حضرت اقدس قادیان راپس تشریف لائے اور سکھوں پر اتمام حجت کی غرض سے "ست بچن تصنیف فرمائی جو نومبر ۱۸۹۵ء میں شائع ہوئی۔اس بے نظیر تصنیف میں آپ نے اپنے سفر ڈیرہ بابا نانک کا بڑی تفصیل سے تذکرہ کرتے ہوئے حضرت بابا نانک کے مسلمان ہونے پر زبر دست دلائل دیئے۔جن میں سب سے زیادہ اہمیت چولہ صاحب ایسی عظیم الشان یادگار کو حاصل تھی۔حضرت بابا نانک کے اسلام پر یہ واضح تاریخی شہادتیں بھی پیش فرمائیں کہ انہوں نے برکت و روحانیت کے حصول کے لئے اسلام کے مشہور صلحاء و اکابر مثلاً حضرت شاہ عبد الشکور رحمتہ اللہ علیہ ، حضرت شیخ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ (۶۱۱۳۸-۶۱۲۳۵) اور حضرت فرید الدین بابا شکر گنج رحمتہ اللہ علیہ (۱۱۷۳- ۱۲۶۵) کے مزاروں پر چلہ کشی کی اور پھر مکہ معظمہ میں فریضہ حج بجالائے اور پھر مدینہ منورہ کی زیارت سے مشرف ہوئے۔اور فارغ ہو کر ملتان میں چالیس روز تک اپنے مرشد حضرت شمس الدین محمد تبریزی رحمتہ اللہ علیہ (۱۱۲۱۰۱۰۷۸) کے روضہ مبارک میں بھی خلوت نشین ہوئے۔حضور علیہ السلام نے ان واضح تاریخی شہادتوں کے علاوہ سکھوں کی مذہبی کتابوں گورو گرنتھ صاحب اور جنم ساکھی کی اندرونی گواہیوں سے بھی بابا نانک کے مسلمان ولی ہونے کی زبر دست تحقیق پایہ ثبوت تک پہنچادی۔"ست بچن کا رد عمل سکھ قوم کی طرف سے آیت سمجھا " جیسی انقلاب انگیز کتاب کا پبلک میں آنا تھا کہ ملک میں ہل چل مچ گئی۔انفرادی لحاظ سے تو اس معرکتہ الاراء تحقیق کا اثر سکھوں پر بڑا خوشگوار ہوا۔چنانچہ ست بچین" کے اکٹر نسخے سکھوں ہی نے خریدے۔اور متعدد اس کا مطالعہ کر کے حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔مگر قومی اعتبار سے اس کا رد عمل بڑا ہی افسوسناک تھا۔سکھ دروانوں کو سب سے زیادہ تشویش چولہ صاحب کے سنسنی خیز انکشال سے پیدا ہوئی جس کے ازالہ کے لئے وہ پنڈت لیکھرام کی