تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 536
تاریخ احمدیت۔جلدا ۵۳۵ تین عظیم الشان علمی انکشافات چنانچہ حضور نے جب چولہ دیکھنا چاہا تو اول تو انہوں نے صرف لپٹا ہوا کپڑا دکھایا مگر کچھ تھوڑا سا کنارہ اندر کی طرف کا نمودار ہو ا جس کے حرف مٹے ہوئے تھے اور پشت پر ایک اور باریک کپڑا چڑھا ہوا تھا۔اور اس کی نسبت بیان کیا گیا کہ یہ وہ کپڑا ہے کہ جس کو گوردار جن صاحب کی بیوی نے اپنے ہاتھ سے سوت کات کر اور پھر بنوا کر اس پر لگایا تھا۔اور بیان کرنے والا ایک بڑھا بیدی بابا صاحب کی اولاد میں سے تھا جو چولہ دکھلا رہا تھا اس نے یہ بھی کہا کہ جو کچھ اس پر لکھا ہوا ہے وہ انسان کا لکھا ہوا نہیں بلکہ قدرت کے ہاتھ سے لکھا ہوا ہے تب حضور نے بہت اصرار سے کہا کہ وہ قدرتی حروف ہم بھی دیکھنا چاہتے ہیں جو خاص پر میشر کے ہاتھ کے ہیں اور اسی لئے ہم دور سے آئے ہیں تو پھر اس نے تھوڑا سا پردہ اٹھایا جس پر بسم الله الرحمن الرحیم لکھا ہو ا تھا اور پھر اس بڑھے نے چاہا کہ کپڑا بند کرے مگر پھر اس سے زیادہ اصرار کیا گیا اور ہر یک اصرار کرنے والا ایک معزز آدمی تھا اور اس وقت غالبا ہیں کے قریب آدمی ہوں گے۔اور بعض اسی شہر کے معزز تھے جو حضور کو ملنے آئے تھے تب اس بڑھے نے ذرا سا پردہ اٹھایا تو ایک گوشہ نکلا جہاں موٹے قلم سے بہت جلی اور خوشخط لکھا ہوا تھا۔لا اله الا الله مُحَمَّد رَسُولُ الله پھر اس بڑھے نے دوبارہ بند کرنا چاہا مگر فی الفور شیخ رحمت اللہ صاحب نے تین روپے اس کے ہاتھ پر کر رکھ دیئے۔جن میں سے دو روپے ان کے اور ایک روپیہ مولانا محمد احسن صاحب کی طرف سے تھا۔اور شیخ صاحب اس سے پہلے بھی چار روپے دے چکے تھے تب اس بڑھے نے ذرا سا پردہ اور اٹھا یا ایک دفعہ سب کی نظر ایک کنارے پر جا پڑی۔جہاں لکھا ہوا تھا۔اِنَّ الدِّينَ عِندَ الله الاسلام یعنی سچا دین اسلام ہی ہے اور کوئی نہیں۔پھر اس بڑھے میں کچھ قبض خاطر پیدا ہو گئی۔تب پھر شیخ صاحب نے فی الفور دو روپیہ مولانا حکیم نور الدین صاحب کی طرف سے اس کے ہاتھ پر رکھ دیئے۔اور پھر اس کے خوش کرنے کے لئے شیخ صاحب نے چار روپیہ اور اپنی طرف سے بھی دے دیئے اور ایک روپیہ ایک اور مخلص دوست کی طرف سے دیا۔تب یہ سب رو پے پا کر وہ بڑھا خوش ہو گیا اور احباب چولہ صاحب بے تکلف دیکھنے لگے۔یہاں تک کہ کئی پر دے اپنے ہاتھ سے بھی اٹھا دئیے۔دیکھتے دیکھتے ایک جگہ یہ لکھا ہوا نکل آیا - اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُه وَرَسُولُه۔پھر شیخ صاحب نے اتفاقا دیکھا کہ چولہ کے اندر کچھ گردو غبار سا پڑا ہے۔تب انہوں نے بڑھنے کو کہا کہ چولہ اس گرد سے صاف کرنا چاہئے لاؤ ہم ہی صاف کر دیتے ہیں یہ کہہ کر باقی تمہیں بھی اٹھا دیں اور ثابت ہو گیا کہ تمام جگہ قرآن ہی لکھا ہوا ہے اور کچھ نہیں۔کسی جگہ سورہ فاتحہ لکھی ہوئی ہے۔اور کسی جگہ سورہ اخلاص اور کسی جگہ قرآن شریف کی یہ تعریف تھی کہ قرآن خدا کا پاک کلام ہے اسے ناپاک ہاتھ نہ لگائیں۔معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اسلام کے لئے بابا صاحب کا ایسا سینہ