تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 525
تاریخ احمدیت جلدا ۵۲۴ تین عظیم الشان علمی انکشافات المانیہ (جرمنی) کی ایک علمی انجمن کے قبضے میں ہے اور چونکہ اس کے اندر حضرت عیسی کے صلیب پر جان دینے اور تمام عالم کے گناہوں کے کفارہ ہونے کی عیسائی عقائد کی تغلیط ہوتی ہے۔اس لئے عیسائی پادریوں کی دستبرد سے فی الجملہ محفوظ ہے۔مکتوب میں راقم نے اس امر کا دعوی کیا ہے کہ وہ حضرت عیسی کے مصلوب ہونے کے وقت عینی شاہد تھا۔حضرت مسیح کو یہود کے سامنے پلا طوس حاکم کلیل کے فرمان کے مطابق صلیب دی گئی۔لیکن چونکہ یوم سبت کی رات ہونے کی وجہ سے ان کو سر شام چند گھنٹوں کے بعد صلیب سے اتار لیا گیا اور ان کی ہڈیاں بھی نہیں توڑی گئیں۔اس لئے وہ مرے نہیں۔اگر چہ یہود کو اطمینان ہو گیا تھا کہ وہ مرگئے ہیں اور پہرہ دار نے بھی اس امر کی تصدیق کر دی تھی۔جلاد پاہیوں کا حضرت عیسی کے بدن میں پر چھی کا چھونا اور اس سے خون اور پانی کا نکلنا بھی (جس کا ذکر انجیل میں ہے) اس امر کی تصدیق ہے کہ حضرت مسیح دراصل مرے نہیں تھے۔لیکن یہود کو گمان ہو گیا تھا۔کہ وہ مرگئے ہیں۔قرآن حکیم سے اس واقعہ کی حیرت انگیز طور پر تصدیق ہوتی ہے اور تیرہ سو برس کے بعد اس کا ایک ہمعصر شہادت سے مصدق ہونا صاحب نظر کے لئے قرآن کے انسانی کلام نہ ہونے کی ایک مبرہن دلیل ہے۔وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا المَسيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَالِكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتباع العَنِ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينَا (النساء: ۱۵۸) راقم مكتوب اس امر پر زور دیتا ہے۔کہ نقاد کس حکیم نے جو امیری فرقے کا ایک اعلی رکن تھا۔حضرت عیسی علیہ السلام کو مناسب علاج سے یوسف کے باغ والی قبر میں اچھا کیا۔وہ تیسرے دن اسی جسم اور بدن سے اٹھ کھڑے ہوئے اور باوجود انتہائی نقاہت کے اپنے حواریوں سے ملے وغیرہ وغیرہ۔جو فرشتے سفید لباس میں اس اثناء میں (از روئے انجیل) قبر کی حفاظت کرتے رہے وہ بھی امیری فرقہ کے خفیہ فرمسندے تھے۔جو ان کی تیمارداری پر متعین کئے گئے۔راقم کہتا ہے کہ یہ خط اس لئے لکھا گیا ہے کہ وہ اختلاف جو حضرت مسیح کی وفات کے متعلق عوام میں پڑ گیا ہے۔اور جس کی وجہ سے طرح طرح کے اوہام باطلہ جہلا میں پھیل گئے ہیں دور ہو جائیں و إِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَةٍ مِنْهُ۔جیسا کہ قرآن حکیم میں ہے لیکن اس حکایت سے قطع نظر جس کے جزئیات کا انجیل کے بیان سے حیرت انگیز طور پر تطابق ہے جو مستقل سبق اس مکتوب سے اخذ ہوتا ہے یہ ہے کہ یہ امیری فرقہ جس کے حضرت عیسی علیہ السلام ایک مقتدر رکن تھے علم حقائق الاشیاء میں حیرت انگیز طور پر ماہر اور قانون فطرت سے بڑا با خبر گردہ تھا۔خدمت عباد اس کے عمل کا جزو اعظم تھا۔روئے زمین کے ہر قریے میں اس کے کارندے موجود تھے۔ان کے باضابطہ اجلاس ہوتے تھے۔کئی برس کے مسلسل سعی و عمل اور علمی مجاہدوں کے بعد ایک شخص کو اس کا رکن اعلیٰ بنا نصیب