تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 526
تاریخ احمدیت جلدا ۵۲۵ تین عظیم الشان علمی انکشافات ہو تا تھا۔اکثر یا علم لوگ اس خفیہ اخوت کے ساتھ ہمدردی رکھتے تھے۔خود پیلاطوس اس کی طرف مائل تھا۔اور عیسی علیہ السلام کو سبت سے ایک دن پہلے صلیب دینا اور ان کی نعش کا یوسف کے سپرد کر دیتا بھی اسی وجہ سے تھا۔اگرچہ اس فرقے کا بظا ہر ادعا ہی تھا۔کہ حکومت وقت کی سیاسیات میں دخل نہ دے۔مگر قانون فطرت سے باخبرادر صاحب علم ہونے کی وجہ سے حکومت اس زیر دست اخوت سے ہر دم خوفزدہ رہتی تھی۔چنانچہ عیسی علیہ السلام سے خوفزدہ رہتا اس وجہ سے تھا۔تصلیب یسوع کے فرمان میں بھی جو پانتیس پلا طوس نے حکومت وقت کے ایماء سے جاری کیا۔حضرت پر نمادی ، مفتری علی اللہ اور کذاب ہونے کے علاوہ باغی حکومت اور قیصری قوانین و آئین کے دشمن ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔اور تصلیب کی اصلی وجہ حتما یہی تھی محکوم یہودیوں کو خوش کرنا اس قدر ضروری نہ تھا۔علاوہ ازیں عوام میں مسیح کے دنیاوی بادشاہت قائم کرنے کا انتظار اور چر چا " تا نباشد چیز کے مردم نه گوید چیز یا کا مصداق ہے جو ہر صاحب نظر پر عیاں ہے اس مکتوب میں درج ہے کہ صحیح علیہ السلام نے پہاڑی پر سے مصر کی طرف کوچ کرنے اور عوام کی نظروں میں فرشتوں کی معیت میں بادلوں میں غائب ہو جانے) سے پہلے حواریوں کے سامنے کہا کہ میرا کام یہ ہے کہ خدا کی بادشاہت " زمین پر قائم کروں۔"تذکرہ" (متولقہ محمد عنایت اللہ خان المشرقی الہندی) صفحہ ۱۶ - ۱۷ حاشیه مطبوعه ۱۹۲۴ء مطبع وکیل امر تر حضرت مسیح کے کفن سے متعلق جرمن اس دستاویز کے بعد متعدد اکتشافات اور ہوئے سائنس دانوں کا حیرت انگیز انکشاف مثلاً حضرت مسیح کی جوانی اور بڑھاپے کی تصویریں بھی انسائیکلو پیڈیا برٹیک" سے مل گئیں۔جن سے یہ صداقت پایہ ثبوت تک پہنچ گئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نظریہ حرف بحرف صحیح ہے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور یہ سب شواہد اپنے اندر بڑی اہمیت رکھتے ہیں چنانچہ حال ہی میں جرمن سائنسدانوں کے اس انکشاف نے دنیا بھر میں زلزلہ سا بپا کر دیا ہے کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کا دوہزار سالہ پرانا کفن اٹلی کے شہر جو رن سے مل گیا ہے جو تصویر کشی کی مدد سے پوری طرح کھل کر سامنے آگیا ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام ہرگز صلیب پر فوت نہیں ہوئے۔سکنڈے نیویا کے اخبار Tidingen Stockholm کے ایڈیٹر "Christer Iderland" نے اپنے اخبار کی ۲ اپریل ۱۹۵۷ء کی اشاعت میں ایک مفصل مضمون بھی شائع کیا۔جس میں بڑی وضاحت سے لکھا کہ جرمن سائنسدانوں کا ایک گروہ آٹھ سال سے مسیح کے کفن کے متعلق تحقیق کر رہا تھا جس کا نتیجہ حال ہی میں پریس کو بتایا گیا ہے۔مسیح کا دو ہزار سالہ