تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 524
تاریخ احمدیت جلدا ۵۲۳ تین عظیم الشان علمی انکشافات گویا مرزا صاحب کی امامت و مهدویت کی اساس ناسپاس ہے "۔مگر خدا تعالی جب اپنے مامور کی زبان سے کسی حقیقت کا اعلان کرواتا ہے تو اس کی گواہی کے لئے خارق عادت رنگ میں شواہد بھی پیدا کر دیتا ہے یہی معاملہ یہاں بھی ہوا۔جو نہی آپ نے یہ انکشاف فرمایا زمین سے نہایت قیمتی دستاویزات اور اہم آثار قدیمہ بر آمد ہونے کا ایک غیر معمولی سلسلہ شروع ہو گیا۔چنانچہ ہندوستان میں دو سکے دستیاب ہوئے جن میں سے ایک پر حضرت مسیح علیہ السلام کا نام پالی زبان میں کندہ تھا۔اور دوسرے پر آپ کی تصویر تھی۔جس سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ حضرت مسیح واقعہ صلیب کے بعد اس ملک میں ضرور تشریف لائے تھے۔پھر سکندریہ سے اسیری فرقہ صوفیاء کا ایک خط یہ آمد ہوا جس میں صاف لفظوں میں یہ ذکر تھا کہ حضرت مسیح صلیب سے زندہ اتارے گئے تھے اور امیری فرقہ کے لوگوں نے ان کے بچانے اور علاج معالجہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی اور آپ شفایاب ہونے کے بعد ایک طویل اور تھکا دینے والے سفر پر روانہ ہو گئے۔مگر شہر میں یہ افواہ مشہور ہو گئی کہ یسوع بادلوں میں اٹھایا گیا اور آسمان پر چلا گیا ہے۔اس خط کا انگریزی ترجمہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی انڈو امریکی بک کمپنی شکا گونے "The Crucifixion by an Eye - Witness" · کے نام سے شائع کر دیا۔واقعہ صلیب کی چشم دید شهادت اس کتاب کا اردو ترجمہ حضرت میاں معراج الدین صاحب عمر نے واقعہ صلیب مسیح کی چشمدید شهادت" کے نام سے مارچ ۱۹۱۳ء میں شائع کیا تھا۔زمانہ حال کے ایک مشہور مسلمان لیڈر علامہ محمد عنایت ان خاں مشرقی اس اہم دستاویز کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں۔حضرت عیسی علیہ السلام شخصیت کے متعلق حال میں ایک عجیب و غریب شہادت دستیاب ہوئی ہے جو اس اولو العزم نبی ٹی حیثیت کو صحیح طور پر سمجھنے میں بہت کچھ مدد دیتی ہے۔یہ شہادت ایک لوح مکتوب میں درج ہے جو حضرت مسیح کے ایک ہمعصر اور واقعہ صلیب کے عینی شاہد نے اپنے سلسلہ کے احباب کو مصر میں لکھا اور جو سکندریہ کے ایک پرانے مکان میں ملک حبش (ابی سینیا) کی ایک تجارتی شرکت کے رکن کو دوران سیاحت میں ملا۔محکمہ آثار قدیمہ مصر نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ یہ پرانا مکان زمانہ قدیم میں "امیری" فرقے کا مسکن تھا جو حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ میں علمائے فطرت کا ایک مقتدر باخدا اور باعمل خفیہ گروہ تھا۔اسی مکان کے اندر اس فرقے کا الواحی کتب خانہ بھی تھا اور یہ پتھر بھی اسی کتب خانہ کا بقیہ ہے اور بظاہر غیر مشکوک اور اصلی ہے۔اور یہ لوح فری میسن جماعت کی وساطت سے