تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 35 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 35

تاریخ احمدیت جلدا ۳۴ خاندانی حالات لئے سلطنت مغلیہ کی بساط سیاست الٹ گئی اور ۱۸۰۳ء میں انگریز مرہٹوں کو دلی سے نکال کر خود مسند اقتدار پر بیٹھ گئے۔اور پہلے تو شاہ عالم ثانی (۱۷۵۹-۱۸۰۶) اور اکبر شاہ ثانی (۱۸۰۶-۱۸۳۷) انگریزوں کے وظیفہ خوار بنے اور پھر سلطنت مغلیہ کے آخری تاجدار بہادر شاہ ثانی (۱۸۳۷-۱۸۵۷) کے ہاتھوں سلطنت مغلیہ کا چراغ ہمیشہ کے لئے گل ہو گیا۔حضرت مرزا گل محمد صاحب تخمینا ۱۸۰۰ء میں انتقال فرما گئے - Ka آپ کے انتقال کے بعد عین اس زمانہ میں جبکہ دہلی کا تخت عملا مغل شہزادوں سے نکل کر انگریزوں کی طرف منتقل ہو رہا تھا۔قادیان کی اسلامی ریاست سکھ اقتدار کے زیر نگیں ہو گئی۔عمدۃ التواریخ میں لکھا ہے کہ ”دیو سنگھ پر تارا سنگھ ملک کو تاخت و تاراج کرتا تھا یہاں تک کہ اس نے تعلقہ قادیان مغلاں کو جہاں ( مرزا) عطا محمد پسر مرزا گل محمد مقیم تھے زبردستی لے لیا اور مغلوں کو اپنے گھروں سے نکال دیا - حضرت مرزا گل محمد صاحب کے جانشین مرزا عطا محمد صاحب اپنے خاندان سمیت کپور تھلہ کی ریاست میں ہمقام بیگووال پناہ گزین ہونے پر مجبور ہو گئے۔یہ ۱۸۰۲ء یا ۱۸۰۳ء کا حادثہ ہے جبکہ ریاست راجہ فتح سنگھ کے قبضہ میں تھی۔راجہ فتح سنگھ نے مرزا عطا محمد صاحب کو دو گاؤں کی پیشکش کی لیکن انہوں نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے یہ گاؤں لے لئے تو پھر یہیں رو پڑیں گے اور اس طرح اولاد کی بہت پست ہو جائے گی اور اپنی خاندانی روایات قائم رکھنے کا خیال ان کے دل سے جاتا رہے گا۔تخمینا ۱۸۱۴ ء میں دور جلاوطنی کی گیارہ سالہ سختیاں اور مصائب جھیلنے اور دکھ اٹھانے کے بعد وہ بالا خر کپور تھلہ ہی میں انتقال فرما گئے۔اور یہ خاندان بظاہر بالکل بے سہارا رہ گیا۔اور یہ نا گفته به حالت کم و بیش ہیں برس تک قائم رہی۔لیکن اب چونکہ امام الزمان کی ولادت کا وقت آرہا تھا اس لئے اللہ تعالٰی نے قادیان کی واپسی کا از خود غیبی سامان کر دیا۔اور وہ اس طرح کہ ۱۸۳۴ء۔۱۸۳۵ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے حضرت مرزا عطا محمد صاحب کے فرزند اور بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کے والد ماجد حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کو قادیان کی ریاست کے پانچ گاؤں واپس کر دیئے جو چودہ سال تک اس شاہی خاندان کے پاس رہے۔پھر جب ۲۹ مارچ ۱۸۴۹ء کو پنجاب کا سلطنت انگریزی سے الحاق عمل میں آگیا تو جہاں اکثر و بیشتر سکھ خاندانوں کے حقوق و اعزاز بدستور قائم رکھے گئے۔بلکہ بعض کو قیمتی جاگیروں سے نوازا گیا۔وہاں بعض "باغی" سرداروں کی جاگیروں کے ساتھ قادیان کی جاگیر بھی چھن گئی۔اور اشک شوئی کے لئے سات سو روپیہ کی پنشن منظور کردی گئی۔کیونکہ شورش کے ایام میں حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب نے فرنگی حکومت کا ساتھ دینے سے صاف انکار کر دیا تھا اس موقعہ پر سکھ وزیر نے بھا گودال کے ایک وزیر کے ذریعہ سے انہیں پیغام بھی