تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 36 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 36

تاریخ احمدیت۔جلدا ۳۵ خاندانی حالات بھیجا کہ انگریز طاقت ور ہیں ان سے صلح کر لو خواہ مخواہ آدمی نہ مرد اؤ۔مگر انہوں نے حکومت وقت سے بے وفائی گوارا نہ کی۔اور معتوب ہو گئے۔اس کے بعد جب انگریزی حکومت با قاعدہ قائم ہو گئی تو انہوں نے اسلامی تعلیم کے مطابق حکومت وقت سے وفاداری کا اعلیٰ نمونہ دکھایا۔بایں ہمہ بڑے بڑے مقدمات کے بعد انہیں بمشکل قادیان کی زمین کا کچھ حصہ واپس مل سکا۔حضرت بانی سلسلہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خود نوشت خاندانی حالات احمدیہ نے "کتاب البریہ " میں قادیان کی اسلامی ریاست اور اپنے خاندانی حالات کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے جسے یہاں نقل کرنا ضروری ہے۔آپ فرماتے ہیں: ہماری قوم مغل برلاس ہے اور میرے بزرگوں نے پرانے کاغذات سے جو اب تک محفوظ ہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمرقند سے آئے تھے اور ان کے ساتھ قریبا دو سو آدمی ان کے توابع اور خدام اور اہل و عیال میں سے تھے اور وہ ایک معزز رئیس کی حیثیت سے اس ملک میں داخل ہوئے اور اس قصبہ کی جگہ جو اس وقت ایک جنگل پڑا ہوا تھا جو لاہور سے تخمینا پچاس کوس بگوشہ شمال مشرق واقع ہے فروکش ہو گئے۔جس کو انہوں نے آباد کر کے اس کا نام اسلام پور رکھا جو پیچھے اسلام پور قاضی ماجھی کے نام سے مشہور ہوا۔اور رفتہ رفتہ اسلام پور کا لفظ لوگوں کو بھول گیا اور قاضی ماجھی کے کی جگہ پر قاضی رہا اور پھر آخر قادی بنا اور پھر اس سے بگڑ کر قادیان بن گیا اور قاضی ماجھی کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ علاقہ جس کا طولانی حصہ قریباً ساٹھ کوس ہے۔ان دنوں میں سب کا سب ماجعہ کہلاتا تھا۔غالبا اس وجہ سے اس کا نام ماجمعہ تھا کہ اس ملک میں بھینسیں بکثرت ہوتی تھیں اور ماجھ زبان ہندی میں بھینس کو کہتے ہیں۔اور چونکہ ہمارے بزرگوں کو علاوہ دیہات جاگیرداری کے اس تمام علاقہ کی حکومت بھی ملی تھی۔اس لئے قاضی کے نام سے مشہور ہوئے۔مجھے کچھ معلوم نہیں کیوں اور کس وجہ سے ہمارے بزرگ سمرقند سے اس ملک میں آئے۔مگر کاغذات سے یہ پتہ ملتا ہے کہ اس ملک میں بھی وہ معزز امراء اور خاندان والیان ملک میں سے تھے اور انہیں کسی قومی خصومت اور تفرقہ کی وجہ سے اس ملک کو چھوڑنا پڑا تھا۔پھر اس ملک میں آکر بادشاہ وقت کی طرف سے بہت سے دیہات بطور جاگیران کو ملے۔چنانچہ اس نواح میں ایک مستقل ریاست ان کی ہو گئی۔سکھوں کے ابتدائی زمانہ میں میرے پر دادا صاحب مرزا گل محمد ایک نامور اور مشہور رئیس اس نواح کے تھے جن کے پاس اس وقت ۸۵ گاؤں تھے اور بہت سے گاؤں سکھوں کے متواتر حملوں کی وجہ سے ان کے قبضہ سے نکل گئے۔تاہم ان کی جوانمردی اور فیاضی کی یہ حالت تھی کہ اس قدر قلیل میں