تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 34 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 34

تاریخ احمدیت۔جلدا ۳۳ خاندانی حالات حکمران اور اعلیٰ درجہ کے جرنیل جانشین ہوئے اس وقت غالبا عالمگیر ثانی کا دور اقتدار شروع تھا۔دہلی کی مغلیہ حکومت کی جڑیں خانہ جنگیوں اور چند در چند اسباب و وجودہ سے کھو کھلی ہو چکی تھیں اور مغل شہزادے آپس میں قتل وغارت کا بازار گرم کئے ہوئے تھے۔لیکن تاریخی ریکارڈ سے ثابت ہے کہ عالمگیر ثانی (۶۱۷۵۴-۱۷۵۹ء) اس کے جانشین شاہ عالم ثانی (۶۱۷۵۹-۱۸۰۶ء) کے قادیان کی ریاست اور حضرت مرزا گل محمد صاحب سے گہرے مراسم قائم تھے۔اور سلطنت مغلیہ کے یہ تاجدار انہیں خط و کتابت میں نجابت وصالی پناه عالیجاہ رفیع جایگاه اخلاص و عقیدت دستگاه اور عمدۃ الاماثل والا فرمان ایسے عظیم القاب سے مخاطب کیا کرتے تھے۔قادیان کی اسلامی ریاست سلطنت مغلیہ کے زوال کے باوجود پورے عروج پر تھی۔اور اگر تقدیر الہی مخالف نہ ہوتی تو عین ممکن تھا کہ سکھوں اور مرہٹوں کا سیلاب رک جاتا اور ہندوستان کے شمال میں آپ ایک زبر دست اسلامی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتے۔حضرت مرزا گل محمد صاحب بھی اللہ اور ان سے قبل ان کے والد مرزا فیض محمد صاحب فرخ سیر، محمد شاہ شاہ عالم ثانی اور عالمگیر ثانی چاروں بادشاہوں کو برابر توجہ دلاتے رہے کہ پنجاب میں سکھ شورش کے جو شرارے پوری شدت سے اٹھ رہے ہیں اس میں تنہا ہم ہی لڑرہے ہیں مگر ہمارے پاس اتنی طاقت نہیں کہ اس فتنے کا کامیاب مقابلہ کر سکیں۔اس لئے ہماری امداد کے لئے جلد مرکزی فوج روانہ کی جائے۔مگر افسوس ان چاروں نے اس بروقت انتباہ کو نا قابل التفات سمجھا۔البتہ سکھوں کے خلاف اس ریاست کی اسلامی خدمات کا خلوص دل سے اقرار کرتے ہوئے یہ وعدہ ضرور کرتے رہے کہ شاباش تم خوب مقابلہ کر رہے ہو ہم بھی آنے کا ارادہ کر رہے ہیں۔مگر ان میں سے کسی کو پنجاب آنے اور سکھوں کے بڑھتے ہوئے اثر و اقتدار کے خلاف نبرد آزما ہونے کی توفیق نہ مل سکی۔نتیجہ یہ ہوا کہ سکھا شاہی پورے پنجاب پر مسلط ہو گئی اور خود مغل شہزادوں کی سہل انگاری سے پنجاب کا خطہ اسلامی حکومت کی آغوش سے نکل کر سکھ حکومت کے زیر نگیں ہو گیا۔حضرت مرزا گل محمد صاحب ہی کے زمانہ میں سلطنت مغلیہ کا ایک وزیر مملکت غیاث الدولہ قادیان میں آیا تو وہ ان کے مجاہدانہ عزائم نا قابل تسخیر ولولوں مدبرانہ طریق استقلال اور حیرت انگیز قوت تدبر اور پروقار دربار کو دیکھ کر حیران و ششدر رہ گیا اور چشم پر آب ہو کر کہنے لگا کہ "اگر مجھے پہلے خبر ہوتی کہ اس جنگل میں خاندان مغلیہ میں سے ایسا مرد موجود ہے جس میں صفات ضروریہ سلطنت کے پائے جاتے ہیں تو میں اسلامی سلطنت کے محفوظ رکھنے کے لئے کوشش کر تاکہ ایام کسل اور نالیا قتی اور بد و صفی موک چغتائیہ میں اس کو تخت دہلی پر بٹھایا جائے "۔لیکن اب پانی حد سے بڑھ چکا تھا۔اس