تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 31
تاریخ احمدیت جلدا ۳۱ قراچار نویاں امیل خان امیرا لنگر اخاں امیر بر کل حاجی برلاس مورث اعلیٰ طراعات خاندانی حالات سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام امیر تیمور صاحبقران سمرقند سے پنجاب تک جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے۔قراچار نے قبیلہ بر لاس کوکش کے علاقہ میں آباد کر دیا تھا۔لیکن جب تیمور کا اقتدار بڑھا تو اس کے چچا حاجی برلاس کش سے بے دخل ہو کر خراسان میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے اور یہیں فوت ہوئے۔II بعد کو خود تیمور نے خراسان کی ریاست زیر نگین لانے کے بعد حاجی برلاس ہی کے خاندان کو بطور جاگیر سونپ دی اور اس طرح یہ شاہی خاندان خراسان ہی میں مقیم ہو گیا۔یہاں تک کہ اس خاندان کے ایک مقتدر بزرگ مرزا ہادی بیگ نے اپنے افراد خاندان سمیت خراسان کو خیر باد کہہ دی اور اپنے آبائی وطن کش میں دوبارہ بود و باش اختیار کرلی جہاں قومی تفرقہ اور خصومت کے نتیجے میں ملک میں ایسے انقلابات ہوئے کہ آپ اس سرزمین کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے اور اپنے خاندان اور توابع اور خدام کے دو سو افراد پر مشتمل ایک قافلہ لے کر کش سے پنجاب کی سرحد میں داخل ہو گئے۔یہ تاریخی ہجرت ۱۵۳۰ء مطابق ۹۳۸ھ میں ہوئی جبکہ ہندوستان میں تیمور کا پوتا اور سلطنت مغلیہ کا پہلا تاجدار ظہیر الدین محمد بابر گھاگرا کی لڑائی میں آخری فتح حاصل کرنے کے بعد اپنی زندگی کے آخری دن گزار رہا تھا۔اور بزم تصوف وارشاد میں حضرت شیخ عبد القادر ثانی رحمتہ اللہ۔حضرت شیخ عبد القدوس گنگوری ، حضرت شیخ بہاؤ الدین جون پوری ، حضرت سلطان جلال الدین ، حضرت شیخ جمال قدس سرہ ، حضرت شیخ زین الدین اور حضرت شیخ محمد غوث گوالیاری شکاری رحمتہ اللہ علیہم اجمعین ایسے اکابر صوفی اور خدارسیدہ بزرگ رونق افروز تھے۔بعض مورخین نے لکھا ہے کہ : " 40 or سلطان بابر نے ۱۵۲۶ء میں پانی پت کے میدان میں ابراہیم لودھی سلطان ہند کو شکست دی اور دہلی میں سلطنت مغلیہ کی بنیاد رکھی۔۔۔سلطان محمد بابر کے ساتھ بھی بہت سے چغتائی سردار دارد ہند ہوئے۔چنانچہ ہند میں مرزا یان چغتائیہ کی تعداد مغلان برلاس سے زیادہ ہو گئی۔اور تاحال زیادہ ہے۔۔۔۔چغتائی وہ مغل ہیں جو چنگیز کے بیٹے چغتائی خان کی اولاد سے ہیں اور ان کے اجداد امیر تیمور اور سلطان