تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 30
تاریخ احمدیت۔جلدا خاندانی حالات ہے کہ صاحبقران تیمور کا شجرہ نسب حضرت نوح کے فرزند حضرت یافث سے ملتا ہے۔اور حضرت یافث کے متعلق مشہور فارسی لغات غیاث اللغات " میں لکھا ہے کہ شیخ ابن حجر شارح صحیح بخاری گفته است که فارسی منسوب بفارس بن غمامور ابن یافث بن نوح علیہ السلام" یعنی صحیح بخاری کے شارح حضرت شیخ ابن حجر فرماتے ہیں کہ فارس حضرت نوح کے پوتے اور حضرت یافث کے بیٹے فارس کی طرف منسوب ہے۔پنجم : علم الاقوام کے ماہرین (مثلای رمکس (E۔Reclus جارج رالن من الم George Rawlin Son) اور اے کی ہیڈن (A,C, Haddon) وغیرہ نے مصری ، کلدانی، آشوری، فینقی ایرانی یونانی اور رومی مشہور تاریخی قوموں کے قدیم حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے بالاتفاق تسلیم کیا ہے کہ چوڑی پیشانی لمبی اور گھنی ڈاڑھی ، بلند ناک گول ٹھوڑی ، چہرہ بیضوی اور سنجیدہ بال گھنے اور بکثرت جلد سفید گلابی یا تانبے کے رنگ کی مانند ایرانی نسل کی امتیازی خصوصیات ہیں۔دوسری طرف انہوں نے چینی، جاپانی، منگولی تبتی اور ترکستانی نسل کے متعلق لکھا ہے کہ اس کا رنگ اور چھڑا زرد ، آنکھیں چھوٹی اور دھنسی ہوئی اور بال سخت ہوتے ہیں۔یہ نسل ایشیا کے شمال و مشرق میں کوہ قاف سے چین و جاپان تک پھیلی ہوئی ہے۔اس تحقیق کی روشنی میں جب سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے خاندان کی جسمانی ساخت شکل و شباہت اور چہرے مہرے کو دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ یہاں منگولی یا ترکی صفات ہرگز موجود نہیں۔مگر ایرانی نسل کے تمام تر او قاف آپ میں بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔پس جس اعتبار سے بھی دیکھا جائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فارسی النسل ہونا نیر النہار کی طرح ظاہر وباہر ہو جاتا ہے۔چنانچہ مشہور اہل حدیث مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی لکھتے ہیں۔” مولف براہین احمدیہ قریشی نہیں فارسی الاصل ہے "۔مندرجہ بالا تحقیقات سے اس سربستہ راز پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ حضور کا خاندان ایرانی النسل ہونے کے باوجود کس طرح چینی اور ترکی خون سے مرکب ہوا۔کیونکہ تاریخ سے ثابت ہے کہ آپ کے جد امجد قرا چار نے جو ایروم جی بر لاس کے پوتے تھے چغتائی خان کی لڑکی سے شادی کی تھی اور اس طرح ترکی چینی خون کی آپ کے خاندان میں آمیزش ہوئی۔اس پہلو کے سمجھنے کے لئے قبیلہ بر لاس کے شجرہ نسب پر فقط ایک نگاہ ڈالنا کافی ہے۔ایروم جی برلاس سوغو چیچن