تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 32 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 32

تاریخ احمدیت جلدا ۳۲ خاندانی حالات محمد باہر کی افواج کے ذریعہ وارد ہند ہوئے اور یہیں مقیم ہو گئے۔اور بر لاس خاص شاہان مغلیہ کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ اولاد امیر تیمور گورگانی سے ہیں۔۔۔اور امیر تیمور کے خروج کے بعد ان کے اجداد متن، تاشقند اور بلخ کے حاکم تھے اور اس واسطے سے یہ تیموری اور بابری لشکروں کے ساتھ دارد بند ہو کر یہاں سکونت پذیر ہو گئے"۔حضرت مرزا ہادی بیگ پنجاب میں ایک مثالی اسلامی ریاست کا قیام اور قادیان کی تاسیس نہ صرف ایک شاہی خاندان کے چشم و چراغ تھے بلکہ خود باہر سے انہیں خاندانی قرابت حاصل تھی۔آپ کے یہاں قدم رنجہ فرماتے ہی پنجاب کی قسمت جاگ اٹھی اور ماجھا کے علاقہ میں نہ صرف ایک نئی بستی ابھر آئی بلکہ ایک مثالی اسلامی ریاست کا قیام بھی معرض عمل میں آگیا۔جو ۱۵۳۰ء (مطابق ۹۳۸ھ) سے ۱۸۰۲ء ( مطابق ۱۲۱۷ھ) تک کم و بیش پونے تین سو سال تک قائم رہی اور پھر سکھوں کی پر چھا گردی کا شکار ہو گئی۔یہ الشان ریاست آخر میں ۸۴-۸۵ دیہات میں محدود ہو گئی۔لیکن اس وقت بھی اس کی سالانہ آمدنی آٹھ لاکھ تھی۔جیسا کہ "شمشیر خالصہ " میں لکھا ہے کہ: ۱۸۶۳ء بکرمی میں اس کا چچا تارا سنگھ مرگیا تو اس کے بیٹے دیوان سنگھ نے جودھ سنگھ سے لڑ کر اپنی جائیداد علیحدہ کرلی اور تعلقہ قادیان کے ۸۴ دیہات پر جن کی آمدنی آٹھ لاکھ روپیہ سالانہ تھی قابض ہو گیا " - 1 حضرت مرزا ہادی بیگ صاحب کے وصال کے حضرت مرزا ہادی بیگ کے وصال کے بعد بعد ان کے خاندان کی شاہانہ عظمت اور جلال و تمکنت میں اضافہ ہو تا رہا۔یہاں تک کہ جب ان کی نویں پشت میں حضرت مرزا فیض محمد صاحب پیدا ہوئے تو ان کے عہد اقتدار میں قادیان کی ریاست کے مغلیہ سلطنت سے اور بھی گہرے تعلقات و روابط قائم ہو گئے۔چنانچہ ۱۷۱۶ء میں محمد فرخ سیر غازی شہنشاہ ہندوستان کی طرف سے انہیں ہفت ہزاری امراء کی سلک میں منسلک کر کے عضد الدولہ کا عظیم الشان قابل فخر اور ممتاز خطاب دیا گیا۔تاریخ سے ثابت ہے کہ ہفت ہزاری منصب شاہان مغلیہ کے زمانہ میں بہت واقیع درفیع سمجھا جاتا تھا۔اور ہفت ہزاری امراء میں مسلک کنے کے یہ ہی تھے کہ وہ اپنی رات میں سات ہزار جوانوں کی فوج رکھ سکتے ہیں جو اس زمانہ میں ایک بڑی جنگی طاقت سمجھی جاتی تھی۔حضرت مرزا گل محمد صاحب کادو را قتدار حضرت مرزا فیض محمد صاحب کے وصال کے بعد حضرت مرزا گل محمد صاحب ایسے ولی اور پارسا