تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 457
تاریخ احمدیت جلدا ۴۵۶ منزل ہوں ہر کس از دست غیر ناله کند سعدی از دست خوشتن فرماد اہل اسلام مطمئن رہیں کہ مرزا صاحب اسلام کو کبھی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔اور یہ بات ہمارے عقیدے کے مطابق ان کے اختیار سے بھی باہر ہے۔اگر اہل ہنود خصوصاً آریہ لوگ اور عیسائی لوگ مرزا صاحب کی مخالفت میں زور و شور سے کھڑے ہو جاتے تو ایسا ہے جانہیں تھا۔مرزا صاحب کی تمام کوششیں آریہ اور عیسائیوں کی مخالفت میں اور مسلمانوں کی تائید میں صرف ہوتی ہیں۔جیسا کہ ان کی مشهور تصنیفات براہین احمدیه سرمه چشم آریہ اور بعد کے رسائل سے واضح ہیں"۔۳۱- جنوری ۱۸۹۲ء کو منشی میراں بخش صاحب کی جلسہ عام میں حضرت اقدس کی تقریر کوٹھی کے احاطے میں حضور کا ایک عظیم الشان لیکچر ہوا خلقت کا ازدحام اس کثرت سے تھا کہ کسی صورت میں بھی حاضرین کی تعداد دس ہزار سے کم نہ ہوگی۔ہر طبقہ کے لوگ موجود تھے۔کوٹھی کے صحن کے علاوہ آس پاس کے مکانوں کی چھتوں اور گلیوں میں بھی بڑا ہجوم تھا۔حضرت اقدس نے اپنی تقریر میں اپنے دعادی سے متعلق زیر دست دلائل دیئے۔اور خصوصیت سے ان آسمانی نشانوں کا تذکرہ فرمایا جو خدا تعالٰی نے آپ کی نصرت کے لئے بارش کی طرح نازل فرمائے تھے اور بتایا کہ علماء میرے مقابلہ میں دلائل قرآنیہ سے عاجز آکر میرے خلاف کفر کا فتوی دیتے ہیں۔ایک مومن کو کافر کہہ دینا آسان ہے مگر اپنا ایمان ثابت کرنا آسان نہیں۔قرآن کریم نے مومن اور غیر مومن کے لئے کچھ نشان مقرر کر دیتے ہیں۔میں ان کا فر کہنے والوں کو دعوت دیتا ہوں کہ اسی لاہور میں میرے اور اپنے ایمان کا قرآن مجید کے مطابق فیصلہ کرالیں۔حضرت اقدس تقریر فرما چکے تو حضرت مولانانور الدین سے ارشاد فرمایا کہ آپ بھی تقریر کریں۔یہ کہ کر حضور انور تو اندر تشریف لے گئے اور حضرت حکیم الامت نے ایک دل ہلا دینے والی تقریر فرمائی۔حضرت حکیم الامت کا یہ خطاب کو مختصر تھا مگر جب آپ نے کلمہ شہادت پڑھ کر کہا۔کہ کیا میں اس عمر میں بھی جھوٹ بولنے کی آرزو کر سکتا ہوں؟ تو یہ الفاظ تیر بن کر دلوں کے پار ہو گئے کوئی آنکھ نہ تھی جو اشکبار نہ ہوئی ہو۔ہر طرف آمریکا کا شور بلند ہو گیا۔تقریر کے بعد چند ہندو معززین آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ایک دفعہ دہی کلمہ پھر پڑھتے تو ہم پورے مسلمان ہو جاتے لیکن آدھے مسلمان تو ہو گئے۔آپ کے مخالفوں نے اس موقعے پر لوگوں کو جلسہ میں شامل ہونے سے بڑی سختی سے منع کیا۔اس وقت بازار میں اتنا بڑا انبوہ ہو گیا کہ آمد و رفت رک گئی۔مگر