تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 456 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 456

تاریخ احمدیت جلدا ۴۵۵ سفر لاہور تشریف فرما تھے اور منشی شمس الدین صاحب جنرل سیکرٹری حضور کے ارشاد سے رسالہ "آسمانی فیصلہ" سنا رہے تھے کہ پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کے کسی بد زبان مرید نے حضور کو نہایت گندی گالیاں دینا شروع کر دیں۔حضور خاموش سر جھکائے اور ریش مبارک پر ہاتھ رکھے سنتے رہے۔جب وہ خاموش ہو گیا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔کہ کچھ اور بھی کہنا ہے تو کہہ ڈالو اس پر وہ بہت نادم ہو کر معافی کا خواستگار ہوا۔جب وہ چلا گیا تو حاضرین میں سے ایک تعلیم یافتہ بر ہمو سماجی لیڈر نے کہا کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے تحمل کے متعلق تو بہت کچھ پڑھا تھا مگر جو نمونہ آج دیکھنے میں آیا ہے یہ یقیناً آپ کا بہت بڑا اخلاقی معجزہ ہے۔委 لاہور کے پیسہ اخبار (۲۲- فروری ۱۸۹۲ء) نے لکھا: " جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی لاہور میں۔مرزا صاحب دو ہفتے سے لاہور میں تشریف رکھتے تھے۔لاہور کی خاص و عام طبائع کو اپنی طرف متوجہ کر رہے تھے کہ کسی وجہ سے سیالکوٹ کو چلے گئے ہیں۔ہر شخص گھر میں ہر دکان بازار میں۔دفتر میں مرزا صاحب اور ان کے دعوئی مماثلت مسیح کا ذکر کرتا ہے۔آج تک اخبارات نے کالم کے کالم اور ورقوں کے ورقے مرزا صاحب کے حالات اور عقائد کی تردید یا تائید میں لکھ ڈالے ہیں۔مگر ہم نے عمداً اس بحث کو نہیں چھیڑا۔جس کی بڑی وجہ یہ ہے پیسہ اخبار کوئی مذہبی اخبار نہیں۔مگر اب چونکہ معاملہ عام انٹرسٹ کا ہو گیا ہے۔اور کئی صاحبوں نے پیسہ اخبار کی رائے مرزا صاحب کے عقائد اور عام حالات کی نسبت دریافت کی ہے۔اس لئے ہم مختصر طور پر ایک دو باتیں ظاہر کرتے ہیں۔مرزا صاحب کے حق میں جو کفر کا فتویٰ دیا گیا ہے ہم کو اس سے سخت افسوس ہوا ہے۔کوئی مسلمان زنا کرے چوری کرے۔الحاد کا قائل ہو۔شراب پئے اور کوئی کبیرہ گناہ کرے کبھی علمائے اسلام اس کی تکفیر پر آمادہ نہیں سنے گئے۔مگر ایک باخدا مولوی جو قال اللہ اور قال الرسول کی تابعداری کرتا ہے بعض جزوی اختلافات کی وجہ سے کافر گردانا جاتا ہے۔گر مسلمانی ہمیں است کہ واعظ دارد وائے گر از پس امروز بود فردائے ہم یہ نہیں کہتے کہ ہر شخص مرزا صاحب کی ہر ایک بات کو تسلیم کرلے۔لیکن یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے مولوی صاحبان اپنی اس لیاقت اور ہمت کو غیر مسلموں کے مقابلے میں صرف کریں جواب مرزا صاحب کے مقابلے میں صرف ہو رہی ہے۔