تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 458 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 458

تاریخ احمدیت جلدا سفر لاہور خدا تعالٰی کے مسیح کی آواز منہ کی پھونکوں سے بند کرنا ان کے بس کی بات نہیں تھی۔مولوی عبدالحکیم صاحب کلانوری سے مباحثہ قیام لاہور کا ایک اہم ترین واقعہ مباحثہ مولوی عبدالحکیم کلانوری ہے مولوی عبدالحکیم صاحب کلانور ضلع گورداسپور کے باشندے تھے اور الور میں رہتے تھے۔انہوں نے حضرت اقدس سے توضیح مرام کی اس عبارت پر کہ محدث ایک معنی میں نبی ہوتا ہے چند روز تک تحریری مباحثہ کیا۔جو -- فروری تک جاری رہا۔ابتداء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔کہ میرے دعوٹی کی بنیاد اس امر پر ہے کہ مسیح ابن مریم نبی ناصری فوت ہو چکے ہیں اور جس صبح کے آنے کا وعدہ ہے وہ میں ہوں۔اگر مسیح علیہ السلام کا زندہ آسمان پر جانا ثابت ہو جائے تو میرا د عوٹی خود بخود غلط ہو جائے گا۔مگر مولوی عبدالحکیم صاحب نے اس راہ سے ہٹ کر ایک دوسرا طریق اختیار کیا۔یعنی کہا کہ میں اس بحث کی ضرورت نہیں سمجھتا۔پہلے آپ کا مسلمان ہونا تو ثابت ہو۔آپ نے نبوت کا دعومی کر کے اسلام سے خروج کیا ہے۔اور مسیح ابن مریم کے نزول کا عقیدہ اسلام کے خلاف نہیں وہ اس امت میں ہو گا۔حضرت اقدس نے فرمایا۔مجھ پر دعویٰ نبوت کا الزام سراسر افترا ہے۔حضرت اقدس نے یہ بھی فرمایا۔کہ میرے مسلمان اور مومن ہونے کا ثبوت ان معیاروں سے دیکھا جا سکتا ہے۔جو قرآن کریم نے بیان کئے ہیں اور جن کو میں نے رسالہ " آسمانی فیصلہ " میں لکھا ہے۔مگر مولوی عبدالحکیم صاحب اپنی بات پر اڑ گئے۔جس پر تحریری مباحثہ شروع ہوا۔حضور نے اپنے جواب میں یہ بنیادی نکتہ پیش کیا کہ اللہ تعالیٰ سے مکالمات و مخاطبات کا سلسلہ امت محمدیہ میں قیامت تک جاری ہے اس دعوے کے ثبوت میں حضور نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث لکھی لَقَدْ كَانَ فِي مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِنْ بَنِي إسْرَائِيلَ رِجَالُ يُكَلِّمُونَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونُوا أَنْبِيَاءَ فَإِنْ يَكُنْ فِي أُمَّتِي مِنْهُمْ أَحَدُ فَعُمَرَ۔جونہی یہ حدیث پڑھی گئی مولوی احمد علی صاحب نے جو مولوی عبدالحکیم صاحب کے کاتب کے فرائض انجام دے رہے تھے شور مچانا شروع کر دیا کہ بخاری شریف سے یہ حدیث نکال کر پیش کریں۔حضرت اقدس نے فرمایا مضمون ختم ہونے دیں۔میں حدیث نکال کر پیش کر دوں گا مگر وہ بار بار بخاری حضرت اقدس کی طرف پیش کرتے کہ لیجئے اور نکالئے۔غرضکہ ان کا مطالبہ بڑی شدت اختیار کر گیا۔مولانا سید محمد احسن صاحب ایسے محدث نے حوالہ کی تلاش میں بخاری کی پوری باریک نظری سے ورق گردانی کی مگر حوالہ نہ مل سکا۔اور فریق مخالف کے حو صلے اور بھی بڑھ گئے تب حضرت اقدس نے