تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 29 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 29

تاریخ احمدیت جلدا ۲۹ خاندانی حالات ذکر کیا ہے اور فروری کی نظم شاہنامے کی رو سے دریائے جیحوں ایران اور توران کے درمیان سرحد قرار پائی۔مگر فتوحات کے زمانوں میں سفر اور دریائے بیجوں کی دادی کے رہنے والوں نے ایرانی زبان اور ایرانی اداروں کو قائم رکھا اور وہ حقیقت میں ایرانی ہی رہے " ایرانی نسل مادر او النہر کے علاوہ موجودہ ترکستان میں بھی آباد تھی چنانچہ M۔A۔Czapleka لکھتی ہے۔اگر چہ ہم پہلی صدی عیسوی میں بھی جنوبی روس میں ترکوں کا نام سنتے ہیں مگر وہ صرف چوتھی صدی میں ترکستان میں آباد ہوئے تھے اور اس لئے یہ ملک اس نام سے مشہور ہوا ہے حالانکہ اس سے پہلے اس کا نام ایران تھا اور اسے ایرکستان بھی کہتے تھے یعنی ایرانیوں کا ملک اور مغرب میں اس کی حد موجودہ ایران تک پھیلی ہوئی تھی"۔ان تفصیلات سے واضح ہے کہ ایرانی نسل ماوراء النہر کے علاقے ہی میں نہیں ترکستان تک بھی پہنچ گئی تھی بلکہ ابتداء میں ترکستان ایران ہی کا ایک حصہ تھا اور سمرقند اور بخار اتو بالخصوص بر لاس قوم کا مسکن تھے۔پس اگر یہ ثابت ہو جائے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اب وجد سمر قندی بخارا کے رہنے والے تھے تو حضور کا فارسی النسل ہونا مسلمہ حقیقت بن جاتی ہے۔اس بارے میں تاریخی حقائق ایک کھلے ورق کی حیثیت میں بتا رہے ہیں کہ حضور کے مورث اعلیٰ سمرقند سے ہندوستان میں ہجرت کر کے فروکش ہوئے تھے۔چنانچہ " تذکرہ رؤساء پنجاب میں (جسے سر لیبل گریفین نے تالیف کرنا شروع کیا اور مسٹر میں اور مسٹر کریک نے پایہ تکمیل تک پہنچایا) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے خاندان کے متعلق ایک نوٹ لکھا ہے: در شہنشاہ بابر کے عہد حکومت کے آخری سال یعنی ۱۵۳۰ء میں ایک مغل بادی بیگ باشندہ سمرقند اپنے وطن کو چھوڑ کر پنجاب میں آیا اور ضلع گورداسپور میں بودوباش اختیار کی۔اس کے علاوہ بعض غیر از جماعت اور غیر مسلم سوانح نگاروں نے حضور کے مورث اعلیٰ مرزا ہادی بیگ کا سمرقند سے ضلع گورداسپور میں فروکش ہونا تسلیم کیا ہے۔مثلاً پادری ایچ ڈی گرس دولڈ فورمین کر چچن کالج لاہو ر لکھتے ہیں: " مرزا صاحب مغلوں کی نسل سے ہیں۔آپ کے بزرگ علاقہ سمرقند ملک ترکستان سے بابر بادشاہ کے عہد میں پنجاب میں آئے تھے "۔چهارم ظفر نامه مولانا شرف الدین یزدی انساب الترک ابو الغازی خاں - الانساب مغل روخته الضبط - حبیب السیر اکبر نامه منتخب اللباب ، خامی خان وغیرہ تواریخ میں بالاتفاق یہ تسلیم کیا گیا