تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 28 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 28

تاریخ احمدیت جلدا VA خاندانی حالات شہادت کی تائید میں چند محققوں کی آراء یہ ہیں: کمیرہ فرز کے میدان میں رہنے والی وحشی قوموں کے حملے سے بہت پیشتر ایرانی لوگ ماوراء النہر میں بود و باش رکھتے تھے۔اے ویمبرے: ور او اشہر کے اکثر باشندے ایرانی تھے۔اور عرب سامانی ، سلجوق اور خوارزم بادشاہوں کے زمانے میں بخارا فرغانہ اور خوارزم کی عام زبان فارسی تھی"۔یہ بات کہ دریائے بیجوں کے دوسری طرف کے ممالک میں قدیم زمانے میں خالص ایرانی نسل کے لوگ آباد تھے۔ایرانیوں کے نہایت قدیم یادگار دندی داد سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔زیلی کا ایم۔اے: " تازک جو سمرقند اور فرغنہ کے علاقوں میں رہتے ہیں وہ خالص ایرانیوں کی اولاد تھے"۔- گب ۷۲۰ عیسوی تک عرب حملہ آوروں کا مقابلہ (ماوراء النہر کے مقامی بادشاہ ہی کرتے رہے اور ان کی فوجیں قریباً سب کی سب ایرانی سپاہیوں پر مشتمل ہوتی تھیں " یہ اقتباسات بتاتے ہیں کہ ماوراء النہر کے علاقوں تک ایرانی نسل پھیلی ہوئی تھی۔اب ذراگری تحقیق کی جائے تو ان علاقوں سے آگے بھی ایرانی لوگ بستے نظر آتے ہیں۔چنانچہ ای شولر (E۔Schuyler) لکھتا ہے۔ایرانی لوگ امو اور سر کے درمیانی علاقے کے رہنے والے ہی نہیں تھے جسے قدیم زمانے میں ماوراء النہر کہتے تھے۔بلکہ دریائے سر پر دائیں کنارے قوقند اور کاشغر میں بھی آباد تھے۔فردوسی نے اپنے شاہنامے میں پہلی دفعہ ایران اور توران کے درمیان دریائے امو کو حد فاصل قرار دیا ہے۔لیکن پروفیسر گری گوریف نے صاف لکھا ہے کہ یہ اصطلاحیں جغرافیائی معنوں میں استعمال کی گئی ہیں نہ کہ علم الانساب کی رو سے۔اور ایران اور توران کے درمیان جو جنگ تھی وہ دو مختلف قوموں کے درمیان نہ تھی بلکہ ایک ہی نسل کے دو قبائل کے درمیان تھی۔بعد کے زمانے میں تو ر ان کے معنی ترک کے ہو گئے اور یہ لفظ تمام ترکی نسل کے لوگوں کے لئے عام طور پر بولا جانے لگا بلکہ ہر ایک قوم کے لئے اور اس چیز کے لئے جس کی اصل زبان دانوں اور علم الانساب کے ماہروں کو معلوم نہ ہو سکتی تھی۔پروفیسر ایچ اے آر کب نے بھی اسی نظریے کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: "دریائے بیجوں روایتی سرحد ہے تاریخی نہیں۔۔۔ساسانیوں کے زمانے سے جس کا مورخین نے