تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 432
تاریخ احمدیت جلدا ۴۳۱ ازالہ اوہام " کی تصنیف و اشاعت نظر مولوی سید محمد بشیر صاحب سوانی کے سوا اور کسی کی طرف کہاں جاسکتی تھی وہ اس زمانے کے بہت بڑے عالم بھی تھے اور علی جان والوں کے ہم مذہب بھی۔آخر اس مباحثہ کے لئے ان کی منظوری حاصل کرلی گئی۔مولوی سید محمد بشیر سواں ضلع بدایوں کے رہنے والے اور اہل حدیث کے ایک مشہور و جید عالم تھے اور بعض دوسرے علماء اہل حدیث کی طرح نواب سید محمد صدیق حسن خاں رئیس بھوپال کے قائم فرمائے ہوئے اشاعتی ادارے سے وابستہ اور مولانا سید محمد احسن صاحب امروہی کی طرح اس کے ممتاز رکن تھے۔اور حضرت اقدس" کی کتاب ” براہین احمدیہ " کی اشاعت کے بعد حضور کی فضیلت علمی اور وجاہت و عظمت روحانی کا جو اثر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی وغیرہ کثیر علماء پر ہوا تھا اس سے یہ دونوں موصوف الصدر علماء بھی خالی نہیں تھے لیکن جب حضرت اقدس نے یہ اعلان فرمایا کہ حضرت مسیح موسوی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔اور امت محمدیہ میں جس مسیح کی آمد کا مردہ دیا اور وعدہ کیا گیا تھا وہ مسیح میں ہوں تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اس نہایت ہی عجیب و غریب خیال کی بناء پر کہ اس اعلان سے پہلے مجھ سے مشورہ کیوں نہیں کیا گیا۔سرکشی و سرتابی اختیار کرلی اور بڑے جوش و خروش سے مخالفت شروع کر دی۔مگر باقی دونوں مذکورہ علماء حضرت اقدس کے دعویٰ پر علیحدہ علیحدہ بھی غور کرنے لگے۔اور باہم مبادلہ خیالات کے ذریعہ سے بھی دونوں صاحبوں میں گفتگو تو ہواہی کرتی تھی مگر کسی مقررہ مقام پر نہیں۔آخر مولوی محمد بشیر صاحب کے اس مشورہ پر کہ ان مسائل میں بر ملا گفتگو مناسب نہیں۔عوام الناس میں مخالفت پیدا ہوتی ہے۔مناسب یہی ہے کہ خلوت میں گفتگو ہوا کرے۔اور مولوی صاحب موصوف ہی کی تجویز و خواہش پر یہ مبادلہ خیالات مولانا محمد احسن صاحب کے مکان پر خلوت میں ہونے لگا۔یہ مبادلہ خیالات مناظرانہ و مخالفانہ نہیں بلکہ محققانہ و محبانہ تھا اور دونوں حضرات نے اس قسمیہ عہد کے بعد شروع کیا کہ جو امر صحیح ثابت ہو گا وہ ضرور قبول کر لیا جائے گا۔پہلے روز مولانا محمد احسن صاحب نے اپنے غیر مطبوعہ رسالہ اعلام الناس جو آپ نے وفات مسیح کے ثبوت اور مولوی عبدالحق غزنولی کے رد میں لکھا تھا مولوی محمد بشیر صاحب کو سنانا شروع کیا۔تاجس امر سے انہیں اختلاف ہو اس پر مبادلہ خیالات ہو جائے۔مولوی محمد بشیر صاحب نے صرف ایک جگہ اختلاف کیا اور اتنا مضمون مولانا محمد احسن صاحب نے اپنے رسالہ سے خارج کر دیا۔باقی تمام مضمون سے اتفاق کیا۔اور نہ صرف اتفاق بلکہ جابجا تائیدی مضمون بھی بیان کئے جو مولوی محمد احسن صاحب نے اس رسالے میں شامل کر لئے۔باقی امور میں مبادلہ خیالات جاری تھا کہ اس خلوت کے مبادلہ خیالات کا دوسرے لوگوں کو علم ہو کر عام چر چاہو گیا اور ابھی اس مبادلہ خیالات کے صرف تین ہی جلسے ہو پائے