تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 433 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 433

تاریخ احمدیت۔جلدا ۴۳۲ ازالہ اوہام " کی تصنیف و اشاعت تھے کہ یہ سلسلہ ختم کر دینا پڑا اور مولوی محمد بشیر صاحب جس بات سے ڈرتے تھے وہ ہو کر رہی اور جابجا ذکر ہونے لگا کہ یہ دونوں مولوی قادیانی خیالات کے ہو گئے ہیں ان کی وجہ سے یہاں قادیانیت پھیلنے کا سخت خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔مولانا سید محمد احسن صاحب نے تو اس کی پروا نہ کی۔اور حضرت اقدس کی بیعت کر لی۔لیکن مولوی محمد بشیر صاحب یہ جرات نہ کر سکے۔مولانا محمد احسن صاحب کے بیعت کر لینے سے عوام کے اس خیال کو بڑی تقویت حاصل ہو گئی کہ دونوں مولوی قادیانی ہو گئے ہیں اور کہا جانے لگا کہ ایک تو بے نقاب ہو گئے دوسرے جو کسی مصلحت سے رکے ہوئے ہیں حشران کا بھی وہی ہوتا ہے جو پہلے کا ہو چکا ہے۔مولوی محمد بشیر صاحب لوگوں کے ان خیالات و مقالات سے بے خبر نہیں تھے انہوں نے لوگوں کو ان خیالات سے روکنے کے لئے حضرت اقدس کے خلاف تقریر میں شروع کر دیں اور یہ سلسلہ جاری تھا کہ علی جان والوں نے ان سے دلی تشریف لا کر حضرت اقدس سے مسئلہ حیات و وفات حضرت مسیح علیہ السلام میں بحث کرنے کی درخواست کی اور مولوی صاحب نے یہ سمجھ کر کہ دلی پہنچ کر اس مسئلہ میں بحث کرنے سے وہ الزامات جو ان پر عائد کے گئے اور کئے جارہے ہیں بڑی صفائی سے دور ہو جائیں گے اور ہم جس چیز کو حاصل کرنے کی دنوں سے کوشش کر رہے ہیں وہ بڑی آسانی سے حاصل ہو جائے گی۔بڑی خوشی سے منظور کر لی تھی۔اور جب دلی والوں نے انہیں بلایا تو وہ دلی پہنچ گئے۔مولوی محمد بشیر صاحب دلی میں مولوی صاحب موصوف جب دلی تشریف لے آئے تو غیر مقلد و مقلد دونوں قسم کے علماء نے جو مسئلہ حیات و وفات مسیح میں بحث ہو نا کسی طرح مناسب نہیں سمجھتے تھے اور جس طرح بھی ٹال سکے اب تک اسے ٹالتے آئے تھے۔جمع ہو کر ان سے دریافت کیا کہ آپ کے پاس حیات مسیح پر وہ کونسی قطعی الدلالت آیت ہے جو آپ (حضرت اقدس) مرزا صاحب کے مقابلے میں پیش کریں گے مولوی محمد بشیر صاحب نے آیت وان من اهل الكتب الاليو منن به قبل موتہ پڑھی۔علماء نے کہا مولوی صاحب! اس آیت شریفہ سے تو اشار تا کنا۔یہ بھی حیات مسیح نہیں نکلتی۔مولوی صاحب نے کہا میں تو یہی آیت پیش کروں گا۔تمام علماء نے کہا کہ ہم اس معاملے میں آپ کے ساتھ نہیں ہیں اور آپ کی فتح و شکست کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔مگر مولوی صاحب نے اس کی کچھ پروا نہیں کی۔اور ان سے بالکل بے نیاز ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں درخواست بھیج دی۔کہ آپ مجھ سے مسئلہ حیات و وفات اور نزول مسیح پر مباحثہ کرلیں۔حضور نے وہ منظور فرمانی اور مباحثے کی پانچ ضروری شرائط بھی بھجوادیں کہ مباحثہ تحریری ہو گا۔فریقین کی طرف سے پانچ پانچ پرچے ہونگے اور پہلا پرچہ آپ کا ہو گا اور سب سے قبل