تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 431 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 431

تاریخ احمدیت جلدا ۳۰م ازالہ اوہام " کی تصنیف و اشاعت سنجیدہ اور امن پسند لوگوں کو ابتداء ہی سے یہ خیال تھا۔کہ ایک معزز شخص اپنے چند عقیدت مندوں کو ساتھ لے کر ہندوستان کے قدیمی دار السلطنت اور مشہور علمی مرکز دلی میں وارد ہوا ہے اور اس نے علمی لحاظ سے اس شہر کی عظیم شخصیت سے مسئلہ حیات و وفات حضرت مسیح میں مباحثہ کا مطالبہ کیا ہے اور ساتھ ہی یہ اقرار بھی شائع کر دیا ہے کہ اگر از روئے آیات قرآنیہ دو احادیث صحیحیہ حیات حضرت مسیح ثابت کر دی گئی تو اس نے وفات حضرت مسیح کے ثبوت میں جو کتابیں لکھی ہیں وہ جلا دے گا۔اور حیات حضرت مسیح ثابت کرنے والے کے ہاتھ پر بیعت کرلے گا۔کیا انصافا یہ مطالبہ ایسا ہے جو اینٹ پتھر گالی گلوچ اور تمسخر و استہزاء یا اسی قسم کی اور حرکات بے جا و ناروا کے ذریعہ ٹال دیا جائے ظاہر ہے کہ یہ مطالبہ ہر گز ایسا نہیں بلکہ یہ تو ایسا مطالبہ ہے جس کا پورا کیا جانا اشد ضروری ہے اور مسئلہ متنازعہ حیات و وفات مسیح میں ضرور مباحثہ ہونا چاہیے۔لیکن اگر ایسا نہ ہوا اور طالب مباحثہ کی جائے قیام پر یورش اور کو اڑ تو ڑ کر اندر گھنے اور حسب حوصلہ دل کی بھڑاس نکالنے کا جوش و خروش ٹھنڈا نہ ہو گیا اور چند مسافر مصائب مسلسل کو برداشت نہ کر کے مباحثہ کئے بغیر ہی شہر سے نکل جانے پر مجبور ہو گئے تو نتیجہ نہایت افسوسناک ہو گا۔دنیا اسے کبھی اچھی نظر سے نہ دیکھے کی علماء کے اعتبار و وقار میں فرق پڑے گا۔حیات مسیح کے عقیدے میں تزلزل پیدا ہو جائیگا بہت سے اسے چھوڑ دیں گے اور بہت سے تذبذب میں پڑ جائیں گے ان تمام امور کے لحاظ سے مباحثہ ہو جانے کی بے حد ضرورت ہے اور کوشش ہونی چاہیے کہ مباحثہ ضرور ہو جائے چنانچہ ایسے ہی خیال والوں میں سے ایک معاملہ فہم و محل شناس انسان کو مباحثہ کا انتظام کر دینے کی توفیق مل گئی۔علی جاں والوں کی طرف سے مولوی علی جان والوں کو جو دلی میں ٹوپیوں کی ایک بڑی محمد بشیر صاحب کو دعوت مباحثہ فرم کے مالک اور مذہبا المحدیث تھے اپنی ذاتی واقفیت کی بنا پر ابتدا ہی سے یہ علم تھا کہ دلی کے علماء خواہ وہ احناف میں سے ہوں یا اہلحدیث میں سے - آپ کے ساتھ مسئلہ حیات و وفات مسیح میں مباحثہ کرنے کے لئے حقیقتاً ایک بھی آمادہ نہیں۔اشتہار شائع کئے جائیں گے تقریریں ہونگی مگر مسئلہ مذکورہ میں مباحثہ ہر گز نہ کیا جائے گاوہ خود یہی یقین رکھتے تھے کہ حیات حضرت مسیح کا عقیدہ ایک اسلامی عقیدہ اور قرآن و حدیث سے ثابت ہے پھر اس میں مباحثہ نہ کرنا کیا معنے۔انہیں بڑا دکھ تھا کہ اس مسئلہ میں مباحثہ نہ کئے جانے سے تو عقیدہ حیات مسیح کو بڑی ٹھیس لگے گی۔اور یہ بالکل ہی متزلزل ہو جائے گا۔علماء دلی سے وہ مایوس چکے تھے اس مسئلہ میں مباحثہ کو ضروری سمجھتے تھے۔اس حالت میں وہ مجبور ہو گئے کہ باہر کے علماء میں سے کسی کو اس مباحثہ کے لئے آمادہ کریں اور باہر والوں میں سے ان کی