تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 430
تاریخ احمدیت جلدا ۴۲۹ ازالہ اوہام " کی تصنیف و اشاعت رہے اور یہ مخالفت خاص خاص طبقات کے شورش پسند افراد تک محدود نہ رہی بلکہ اس نے پیروں فقیروں اور مغربیت زدہ وغیرہ گروہوں کے افراد کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اور پہلے پچھلے دونوں قسم کے مخالف اپنی اپنی مناسبت طبع اور ذوق فطری کے مطابق جو ہر دنائت و سفاہت کا مظاہرہ کرنے اور شرافت و انسانیت کو شرمانے لگے اس موقعہ پر ان کی کارستانیوں اور کرتوتوں کی بہت سی گوناگوں مثالوں میں سے صرف ایک ہلکی سی مثال پیش کی جاتی ہے۔اور یہ مثال ہے بھی ان کی جو مشہور صحافی بھی ہیں اور بہت سی کتابوں کے مولف و مصنف بھی اور جنہوں نے قرآن شریف اور بخاری شریف کا ترجمہ بھی کیا ہے اور جن کا نام ہے مولوی امراء مرزا صاحب حیرت دہلوی (۱۸۵۸ - ۱۹۲۸) آپ مغربیت کے دلدادہ اور اس پر فخر کرنے والے بھی تھے۔اور زمرہ علماء میں سے ہونے کا غرہ رکھنے والے بھی۔آپ نے بعض اور علماء کے مشورہ سے اس مضمون کا ایک اشتہار چھپوایا۔کہ اصل مسیح میں ہوں جو آسمان سے اترا ہوں اور دلی میں دجال آیا ہوا ہے اور آپ یہ اشتہار لے کر فتح گڑھ کے منار پر چڑھ گئے اور وہاں سے یہ اشتہار پھینکنے لگے۔حضرت اقدس نے حیرت صاحب کی اس سفلہ خوئی پر اشتهار مورخه ۲۳ - اکتوبر ۱۸۹۱ء میں دلی والوں کو بڑی شرم دلائی ہے۔پھر یہی مرزا حیرت صاحب ایک روز پولیس افسر بن کر حضرت اقدس کے پاس آئے اور کہا میں سپرنٹنڈنٹ پولیس ہوں۔اور مجھے ہدایت ہوتی ہے کہ میں آپ سے دریافت کروں کہ آپ کسی غرض کے لئے آئے ہیں اور کس قدر عرصہ ٹھریں گے۔اور اگر کوئی فساد ہو تو اس کا ذمہ دار کون ہے۔آپ مجھے اپنا بیان لکھوا دیں بلکہ یہاں تک کہا کہ سرکار سے حکم ہوا ہے کہ یہاں سے فورا چلے جاؤ ورنہ تمہارے حق میں اچھا نہیں ہو گا۔حضرت اقدس نے مرزا حیرت کی طرف ذرہ بھی التفات نہ کیا۔صرف سید امیر علی شاہ صاحب نے جو اہلکار پولیس تھے ان سے کچھ دریافت کرنا چاہا۔تو وہ گبھرائے اور اپنا بھرم کھلتا دیکھ کر چلتے بنے۔اس مثال سے قیاس ہو سکتا ہے کہ جو شخص بہت سی کتابوں کا مصنف و مولف ہو اور قرآن کریم اور بخاری شریف کے مترجم ہونے کا حوصلہ رکھنے والا بھی ہو جوش مخالفت میں ایسی ذلیل و شرمناک حرکتوں سے باز نہ رہ سکا تو اسی جیسا علم اور دل و دماغ رکھنے والوں اور پھر عوام کالانعام کا کیا حال ہو گا۔اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے طبائع کا فرق بھی کتنا عجیب ہے جہاں ولی کے ہزاروں آتش مزاجوں اور شورش پسندوں میں سے کسی ایک کو بھی یہ خیال نہ ہوا کہ مطالبہ تو مسئلہ حیات و وفات حضرت مسیح علیہ السلام میں مباحثہ کا ہے اور وہ پورا ہو سکتا ہے مولوی سید نذیر حسین صاحب کے مسئلہ مذکورہ میں مباحثہ کر لینے یا نہ کر سکنے کی حالت میں حسب مطالبہ قسم کھالینے سے ہماری زشت کاریوں اور خشت باریوں اور تمسخر و استہزاء وغیرہ سے وہ کس طرح پورا ہو جائیگا وہاں دلی ہی کے شریف و شائستہ متین و