تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 429
تاریخ احمدیت جلدا ۴۲۸ ازالہ اوہام " کی تصنیف و اشاعت ایسا نہیں تھا اس لئے اعراض کیا گیا۔جب تک حضرت اقدس " کو کو ٹھی پر پہنچا کر گاڑی واپس نہیں آگئی صاحب سپر نٹنڈنٹ پولیس مسجد کی سیڑھیوں پر ٹھہرے رہے۔اس کے بعد حضور کے خدام روانہ ہوئے تو یہ فرض شناس پولیس افسر لوگوں کو منتشر کرتا رہا۔آخر سب خدام بھی بخیرت حضور کی خدمت میں پہنچ گئے۔وہلی کے ہر طبقے کی طرف سے مخالفت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف اہل دلی کے بعض طبقات میں سے حق پسندی و منصف مزاجی سے تعلق نہ رکھنے اور اپنے معتقدات کے خلاف کچھ سنتے ہی بھڑک اٹھنے والے تو ابتداء ہی سے خلاف انسانیت حرکات میں مشغول تھے لیکن مسجد جامع کے واقعہ نے ان طبقات کے آشفتہ دماغ آتش مزاج اشخاص کو بھی ان کی قیام گاہوں سے نکال کر میدان مخالفت میں کھڑا کر دیا۔جو اب تک پہلے مخالفت کرنے والوں کے ساتھ شامل نہیں تھے۔بحالیکہ مخالفت کی کوئی معقول وجہ نہ تو پہلے موجود تھی نہ اب۔اور اب تو وہ یہ بھی دیکھ چکے تھے۔کہ جس مسئلہ پر بحث کے لئے اور بحث نہ کرنے کی صورت میں قسم کھا کر دلائل وفات مسیح کو غلط اور اپنے عقیدہ حیات مسیح کو صحیح قرار دینے کا مولوی محمد نذیر حسین صاحب سے مطالبہ کیا گیا تھا۔وہ انہوں نے پورا نہیں کیا ہے یعنی نہ تو مسئلہ مذکورہ میں بحث کی ہے اور نہ حسب مطالبہ قسم کھائی ہے۔اس حالت میں حضرت اقدس کے خلاف جوش و خروش کی تو ان کے لئے کوئی گنجائش ہی نہیں تھی اپنے شیخ الکل پر غصہ کرنے یا کم از کم ان کی اس حالت پر کہ نہ انہوں نے بحث کی ہے اور نہ مطالبہ قسم پورا کیا ہے متاسف ہونے کا موقعہ تھا۔اگر وہ اس امر پر ایک طالب تحقیق کی طرح غور کرتے کہ مولوی سید نذیر حسین صاحب جیسے شہرہ آفاق عالم نے مسئلہ حیات و وفات مسیح میں بحث کیوں نہیں کی اور بحث نہ کر سکنے کی حالت میں حسب مطالبہ قسم کیوں نہ کھائی عقیدہ حیات مسیح کی حقیقت ان سے مخفی نہ رہتی۔اور ان کی سمجھ میں آجاتا کہ جب شیخ الکل نے اس مسئلہ میں بحث نہیں کی اور حسب مطالبہ قسم نہیں کھائی تو ہمارے شور مخالفت برپا کرنے سے کیا ہاتھ آئے گا اور اس سے حیات مسیح کا عقیدہ کسی طرح صحیح ثابت ہو جائے اس اختلافی مسئلہ کی صحت و عدم صحت معلوم کرنے کا ذریعہ تو از روئے آیات قرآنیہ و احادیث صحیحہ مبادلہ خیالات ہی ہے نہ اختلاف رکھنے والے کے خلاف شور و غونما اور طوفان مزخرفات اور یہ سمجھ کر وہ اپنے ہنگامہ بے جا و حرکات نارو اسے باز آجاتے۔لیکن چونکہ وہ مخالف علماء کے لگائے ہوئے غلط الزاموں اور باطل اتہاموں سے اتنے متاثر و مشتعل ہو چکے تھے کہ ان میں حضرت اقدس کے خلاف ہنگامے برپا کرنے اور اشتعال پھیلانے کے سوا کسی اور امر کی طرف توجہ کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رہی تھی۔اس لئے وہ مخالفت ہی میں سرگرم