تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 421 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 421

تاریخ احمدیت۔جلدا ۴۴۰ کنندہ ہے حال ہی میں پروفیسر سمتھ کو اہرام مصر سے اتفاقا دستیاب ہوئی ہے۔ازالہ اریام " کی تصنیف و اشاعت توفی اور الدجال کے بارہ میں ایک ہزار روپیہ کا انعامی اشتہار قرآن مجید نے وفات حضرت مسیح علیہ السلام کی خبر میں تو نی کا لفظ استعمال کیا ہے جس کے معنے محض قبض روح یا وفات دینے کے ہیں۔لیکن چونکہ علمائے وقت آپ کے توجہ دلانے پر بھی توفی کے اسی لفظ سے جو حضرت مسیح کی طبعی موت کا اعلان کر رہا تھا، ان کی جسمانی زندگی کا استدلال کر رہے تھے۔لہذا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں یہ زبر دست انعامی چیلنج دیا کہ اگر کوئی قرآن کریم یا کسی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا قدیم و جدید عربی لٹریچر سے یہ ثبوت پیش کرے کہ کسی جگہ توفی کا لفظ خداتعالی کا فعل ہونے کی حالت میں جو ذی روح کی نسبت استعمال کیا گیا ہے قبض روح اور وفات دینے کے علاوہ قبض جسم کے معنوں میں بھی مستعمل ہوا ہے تو میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر اقرار صحیح شرعی کرتا ہوں کہ ایسے شخص کو مبلغ ہزار روپیہ نقد دوں گا۔اور آئندہ اس کے کمالات حدیث رانی اور قرآن دانی کا اعتراف کرلوں گا۔ایسا ہی اگر وہ یہ ثابت کر دیں کہ الدجال کا لفظ جو بخاری اور مسلم میں آیا ہے بجز دجال معہود کے کسی اور دجال کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے تو مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں ایسے شخص کو بھی جس طرح ممکن ہو ہزار روپیہ نقد تاوان کے طور پر دوں گا۔حضرت اقدس" کا یہ وہ عظیم الشان چیلنج ہے جسے قبول کرنے کی جرات آج تک کسی کو بھی نہیں ہو سکی۔ازالہ اوہام " کی تصنیف کے دوران میں حضرت اقدس پر یہ بھی مسیح اور مہدی ایک ہیں انکشاف ہوا کہ حدیثوں میں مسیح اور مہدی کی آمد سے متعلق جو پیشگوئیاں موجود ہیں ان کا مصداق ایک ہی شخص ہے جو بعض اوصاف کے لحاظ سے مسیح ہو گا اور بعض اوصاف کے لحاظ سے مہدی۔اور وہ مسیح و مہدی آپ ہی ہیں۔چنانچہ آپ نے ازالہ اوہام " میں بڑی وضاحت سے لکھا کہ یہ خیال بالکل فضول ہے کہ مسیح ایسی عظیم الشان شخصیت کے ظہور کے وقت کسی اور مہدی کا آنا بھی تسلیم کیا جائے کیا وہ خود مہدی نہیں ہے ؟ ازالہ اوہام " کی طباعت کے دوران میں شیخ نور احمد صاحب کو ایک عجیب ایک عجیب واقعہ واقعہ پیش آیا جو شیخ صاحب کے الفاظ میں درج ذیل ہے۔کتاب ازالہ اوہام " جب میرے مطبع میں چھپ رہی تھی تو حضور اس کا مسودہ لدھیانہ میں لکھتے تھے اور میرے پاس بھیجتے جاتے تھے۔میں نے ازالہ اوہام " میں جب یہ پڑھا کہ مردے زندہ ہو کر نہیں آتے اور نہ