تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 420 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 420

تاریخ احمدیت۔جلد ! ۴۱۹ ازالہ اوہام " کی تصنیف و اشاعت اس کشف کی یہ حیرت انگیز صداقت ہے کہ مغربی ممالک میں آج اللہ تعالٰی کے فضل سے اسلام بڑی سرعت سے پھیل رہا ہے اور ان ممالک میں اسلام کی منظم تحریک قائم ہو چکی ہے۔چنانچہ زمانہ حال کے ایک مسلمان محقق و مورخ شیخ محمد اکرام صاحب ایم۔اے لکھتے ہیں۔" احمد یہ جماعت کی تبلیغی کوششیں صرف انگلستان تک محدود نہیں بلکہ انہوں نے کئی دوسرے ممالک میں بھی اپنے تبلیغی مرکز کھولے ہیں۔دنیا کے مسلمانوں میں سب سے پہلے احمدیوں اور قادیانیوں نے اس حقیقت کو پایا کہ اگر چہ آج اسلام کے سیاسی زوال کا زمانہ ہے لیکن عیسائی حکومتوں میں تبلیغ کی اجازت کی وجہ سے مسلمانوں کو ایک ایسا موقعہ بھی حاصل ہے جو مذہب کی تاریخ میں نیا ہے اور جس سے پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔اب روز بروز بر صغیر پاک وہند کے مسلمان بھی اس خیال کے پابند ہوتے جاتے ہیں کہ اسلامی دنیا کی مصلحت اس میں نہیں کہ پاک وہند کے مسلمان ترکی یا مصر یا کسی اور مختصر سے اسلامی ملک کے " تابع معمل " بنے رہیں بلکہ اسلامی مصلحتوں کا تقاضا ہے کہ علمی اور تبلیغی بلکہ اقتصادی اور تمدنی امور میں بھی پاکستان اور ہندوستان کے مسلمان دنیائے اسلام یا کم از کم اسلامی ایشیا کی راہنمائی کریں۔یہ خیال قوم کے مطمع نظر کو بلند کر کے ایک نئی روحانی زندگی کا باعث ہو گا۔لیکن اس کے ایک حصے کی عملی تشکیل سب سے پہلے احمدیوں نے کی؟ te احادیث میں زمانہ مسیح موعود کی جو علامات لکھی ہیں۔ان میں دجال m فتنہ دجال کی حقیقت کے ظاہر ہونے کی خبر بڑی اہمیت رکھتی ہے حضور نے ازالہ وہام میں اس خبر سے پر دہ حقیقت اٹھا کر لکھا کہ قرآن مجید میں مغربی اقوام کے جس سیاسی فتنہ کو یا جوج وماجوج کے نام سے یاد کیا گیا ہے حدیث میں اسی کے مذہبی پہلو کو دجال کہا گیا ہے جو عیسائیت ہے اور جس کا خروج حدیثوں کے مطابق گرجے سے ہونا مقدر تھا۔اس طرح آپ نے موجودہ دنیا کے ایک خطرناک ترین فتنے کی نشان دہی کر کے عالم اسلام کو اس کی فتنہ سامانیوں سے بچنے کی دعوت دی اور یہ حقیقت ہے کہ نہ صرف مہدی ومسیح کی آمد سے متعلق نشانیوں کے پورے ہونے کا اقرار اب مسلم علماء کر رہے ہیں بلکہ دجال وغیرہ کے ظہور سے متعلق آپ کی توجیہ بھی مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ایک عجیب انکشاف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کتاب میں قدیم نوشتوں اور اپنے الہامات کی بناء پر یہ عجیب انکشاف بھی فرمایا کہ ازل سے مقدر تھا کہ ہزار ہفتم کی راہنمائی کے لئے اللہ تعالیٰ ایک آدم موعود مبعوث کرے گا۔اور وہ آدم میں ہوں۔اس وقت اس خیال کا مذاق اڑایا گیا لیکن اب آثار قدیمہ سے خود حضرت آدم علیہ السلام کی یہ پیشگوئی برآمد ہو گئی ہے کہ ساتویں ہزار میں ایک دو سرا آدم برپا ہو گا جو جلیل القدر نبی ہوگا۔یہ پیشگوئی جو پتھر کے لوح پر