تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 418
تاریخ احمدیت۔جلدا ازالہ اوہام " کی تصنیف و اشاعت ازالہ اوہام کی تصنیف و اشاعت لفظ توفی اور الدجال کے بارے میں ایک ہزار روپیہ کا انعامی اعلان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مسیح ناصری کی وفات اور اپنے دعوئی کے ثبوت میں ازالہ اوہام " کے نام سے ۱۸۹۱ء کے وسط میں ایک نہایت مدلل و مبسوط اور جامع و مانع کتاب شائع فرمائی۔یہ تصنیف لطیف جو حضور نے چند ہی ماہ کے قیام لدھیانہ میں لکھی تھی۔آیات قرآنیہ واحادیث نبویہ کے رموز و اسرار اور حقائق و معارف کا ایک بحرز خار ہے۔اس میں قرآن مجید کی تمیں آیات بینات سے وفات حضرت مسیح کا ایسا ثبوت پیش کیا اور اپنے مسیح موعود ہونے کے ثبوت میں دلائل عقلیہ و نقلیہ کا استاذ خیرہ جمع کر دیا گیا ہے کہ خدا ترس حق پسند طالبان تحقیق کے لئے سر تسلیم جھکانے اور بے انصافوں کے لئے معقول جواب سے محروم رہ جانے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔حضرت مسیح کی وفات اور حضرت مسیح موعود کے دعوے سے متعلق جو شکوک وشبہات اور وساوس دا ر ہام پیش کئے جاتے ہیں ان کا اس شان سے قلع قمع کیا گیا جس نے حقیقت کو آئینہ اور ازالہ اوہام کو اسم با مسمی بنادیا۔یہی وہ کتاب ہے جس میں حضرت اقدس نے مسلمانان عالم کو یہ اہم وصیت فرمائی کہ "تم اپنے ان تمام مناظرات کا جو عیسائیوں سے تمہیں پیش آتے ہیں پہلو بدل لو اور عیسائیوں پر یہ ثابت کر دو کہ در حقیقت صحیح ابن مریم ہمیشہ کے لئے فوت ہو چکا ہے یہی ایک بحث ہے جس میں فتحیاب ہونے سے تم عیسائی مذہب کی روئے زمین سے صف پیسٹ دو گے؟ حیات مسیح ناصری کا عقیدہ جیسا کہ بعد کی تحقیقات سے معلوم ہوا عیسائیوں کی سازش کے تحت امت مسلمہ کے اعتقادات میں داخل ہوا تھا۔1 جسے پارہ پارہ کرنا مسیح محمدی کے ذریعہ سے مقدر تھا۔اس وقت تو علماء اور عامتہ المسلمین نے حضرت مسیح موعود کی اس وصیت پر عمل پیرا ہونے کی بجائے احتجاج کیا اور اسے مسیح علیہ السلام کی بہتک سے تعبیر کیا۔مگر رفتہ رفتہ خود زمانہ نے انہیں مجبور کر دیا کہ وہ "