تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 419
تاریخ احمدیت۔جلندا ۴۱۸ ازالہ اوہام کی تصنیف و اشاعت اس نظریے کا اعتراف کرلیں۔چنانچہ ایک مدت سے ہر طرف اس کی تائید میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔از ہر یونیورسٹی کے پروفیسر محمود شلتوت 7 شیخ الجامعہ الازہرا اور عرب مصر شام فلسطین اور لبنان کے دیگر جید علماء مثلاً علامہ محمد عبده مفتی مصر، الشيخ عبد القادر المغربي الاستاذ مصطفى المراغى الاستاذ عبد الوہاب النجار الاستاذ احمد محی الدین العجوز اور عبد اللہ التشادی الغزی نے بھی مسیح کی وفات کا اعلان کر رکھا ہے اس سے بڑھ کر یہ کہ بر صغیر ہند و پاکستان کی ان مخصوص جماعتوں کی طرف سے بھی جو محض جماعت احمدیہ کی مخالفت کا مقصد لے کر اٹھتی رہی ہیں گاہے گاہے حضرت مسیح کی وفات کا اعلان ہوتا رہتا ہے۔مولانا ابوالکلام آزاد (۱۸۸۸-۱۹۵۸ء) ایسے بلند پایہ عالم بھی بالا خرید تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے کہ (حیات مسیح کا) عقیدہ اپنی نوعیت میں ہر اعتبار سے ایک مسیحی عقیدہ ہے اور اسلامی شکل و لباس میں نمودار ہوا ہے"۔اس کے علاوہ حال ہی میں پاکستان کے ایک عالم مولانا عبد القیوم ندوی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبات کا ترجمہ شائع کیا ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ حضرت مسیح کے متعلق حدیث نبوی میں جو نازل ہونے کی پیشگوئی لکھی ہے اس کے معنے پیدا ہونے کے ہیں۔اس حیرت انگیز تبدیلی کے نتیجہ میں بعض علماء کھلم کھلا اعتراف کر رہے ہیں کہ ”ہماری قوم کی حالت زار کے مسیحا اسی نوخیز نسل کی صفوں سے جنم لیں گے " یہ حضرت اقدس کے علم کلام کی شاندار فتح ہے۔لیکن بہر حال حضور کی وصیت پر عمل پیرا ہونے اور آپ کے اس نظریہ سے حقیقی معنوں میں فائدہ اٹھانے کی توفیق جماعت احمدیہ ہی کو مل رہی ہے۔جس کے عظیم الشان نتائج ایک عالم کے سامنے ہیں کہ عیسائیت ہر جگہ دم توڑ رہی ہے۔اور اسلام کے روشن سورج کی ضیاء پاشیوں سے شرق و غرب بقعہ نور بنتے جاتے ہیں۔مغرب سے آفتاب اسلام کے طلوع کی پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ آخری زمانہ میں سورج مغرب سے طلوع ہو گا۔II حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ازالہ اوہام " میں بذریعہ کشف اس کی یہ تعبیر فرمائی کہ " ممالک مغربی جو قدیم سے ظلمت کفر و ضلالت میں ہیں آفتاب صداقت سے منور کئے جائیں گے اور ان کو اسلام سے حصہ ملے گا۔۔۔۔اور میری تحریر میں ان لوگوں میں پھیلیں گی اور بہت سے راست باز انگریز صداقت کا شکار ہو جائینگے در حقیقت آج تک مغربی ملکوں کی مناسبت دینی سچائیوں کے ساتھ بہت کم رہی ہے۔گویا خد اتعالیٰ نے دین کی عقل تمام ایشیا کو دے دی۔اور دنیا کی عقل تمام یورپ اور امریکہ کو۔نبیوں کا سلسلہ بھی اول سے آخر تک ایشیا کے ہی حصہ میں رہا۔اور ولایت کے کمالات بھی انہیں لوگوں کو ملے۔اب خدا تعالٰی ان لوگوں پر نظر رحمت ڈالنا چاہتا ہے "۔