تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 413
تاریخ احمدیت۔جلد ۴۱۲ علماء دقت کو تحریری مباحثہ کی دعوت لمحہ بہ لمحہ حضور سے دور ہوتے جارہے تھے۔مباحثہ لدھیانہ کے دنوں میں مولوی محمد حسین صاحب کا جو پرچہ نقل کے بعد منگوایا جاتا تھا وہ لینے کے لئے میر صاحب ہی جاتے تھے اور بد قسمتی سے اس آمد درخت نے ان کی رہی سہی عقیدت بھی ختم کر دی۔بات یہ ہوئی کہ مولوی محمد حسین صاحب اور مولوی محمد حسن صاحب انہیں پھانسنے کے لئے بڑی خاطر تواضع کرتے اور جب جاتے تو سروقد تعظیم کے لئے کھڑے ہو جاتے اور کہتے میر عباس علی صاحب تم تو سید ہو آل رسول ہو تمہارا تو وہ مرتبہ ہے کہ لوگ تم سے بیعت ہوں مگر افسوس تم مرزا کے مرید ہو گئے امام مہدی تو سیدوں میں سے ہو گا یہ مغل کہاں سے بن گیا یہ دونوں مولوی میر عباس علی صاحب کے ہاتھ چومتے اور دو ایک روپیہ نذرانہ بھی دیتے اور کہتے کہ تمہاری شان تو وہ ہے کہ تم درود میں شریک ہو مگر افسوس تم کس کے مرید ہو گئے میر عباس علی صاحب تو پہلے ہی منافقت آمیز رویہ اختیار کئے ہوئے تھے۔اب جو ان حیلہ گروں کی یہ ارادتمندی دیکھی تو باچھیں کھل گئیں۔اعتقاد متزلزل ہو گیا اور ایمان کی دولت یکسر کھو بیٹھے۔ایک روز وہ حضور کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے کہ آپ نے ایسا دعویٰ کیا ہے کہ جس کی وجہ سے ہم کو۔شرمندہ ہونا پڑتا ہے حضرت اقدس نے فرمایا کہ میر صاحب میں نے جھوٹا دعویٰ نہیں کیا۔اللہ تعالٰی میری بات پر گواہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھ کو مسیح موعود اور مہدی معہود کیا اور بنایا ہے اور میں اللہ تعالٰی کو حاضر ناظر جان کر اور قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور سچا ہوں۔کیا اتنے روز سے تم نے میرا کوئی جھوٹ سنایا مجھ کو جھوٹ بولتے دیکھایا میں نے کوئی افتراء کیا یا منصوبہ باندھا۔میں مسیح موعود اور مہدی موعود ہوں۔یہ تقریر سن کر حضرت مولانا نور الدین پر ایسا اثر ہوا کہ ان پروجد طاری ہو گیا۔لیکن میر صاحب پر کوئی اثر نہ ہوا۔میر صاحب اس کے بعد روز بروز معاندانہ سرگرمیوں میں بڑھتے گئے یہاں تک کہ اسی سال ۱۲ دسمبر ۱۸۹۱ء کو انہوں نے ایک مخالفانہ اشتہار بھی شائع کیا جو ترک ادب اور تحقیر کے الفاظ سے بھرا ہوا تھا۔حضرت مسیح موعود نے آسمانی فیصلہ میں اس اشتہار کا کو جواب دیا مگر ان کے زمانہ عقیدت و اخلاص کو نظر انداز نہیں ہونے دیا۔بلکہ اپنی جماعت کو ہدایت فرمائی کہ وہ ان کے حق میں دعا کریں اور میں بھی دعا کروں گا۔نیر فرمایا۔” یہ انسان کے تغیرات کا ایک نمونہ ہے کہ وہ شخص جس کے دل پر ہر وقت عظمت اور ہیبت کچی ارادت کی طاری رہتی تھی اور اپنے خطوط میں اس عاجز کی نسبت خلیفتہ اللہ فی الارض لکھا کرتا تھا۔آج اس کی کیا حالت ہے پس خدا تعالیٰ سے ڈرواد ر دعا کرتے رہو کہ وہ محض اپنے فضل سے تمہارے دلوں کو حق پر قائم رکھے اور لغزش سے بچاوے" نیز فرمایا " مجھے اگر چہ میر عباس علی صاحب کی لغزش سے بہت رنج ہوا۔لیکن پھر میں دیکھتا ہوں کہ جب کہ میں حضرت مسیح