تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 412 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 412

تاریخ احمدیت۔جلدا علماء وقت کو تحریری مباحثہ کی دعوت مضمون سنانے سے پہلے فرمایا کہ مولوی صاحب اب یہ مباحثہ طول پکڑ گیا ہے۔اس کی اب کوئی ضرورت نہیں۔وفات وحیات مسیح علیہ السلام میں بحث ہوئی مناسب ہے مگر مولوی صاحب کب ماننے والے تھے۔جب حضرت اقدس علیہ السلام نے پرچہ سنانا شروع کیا تو مولوی صاحب کا چہرہ سیاہ پڑ گیا اور ایسی گبھراہٹ ہوئی اور اس قدر حواس باختہ ہوئے کہ نوٹ کرنے کے لئے جب قلم اٹھایا تو زمین پر قلم مارنے لگے روات جوں کی توں رکھی رہ گئی اور قلم چند بار زمین پر مارنے سے ٹوٹ گیا اور رجب یہ حدیث آئی کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ جو حدیث معارض قرآن ہو وہ چھوڑ دی جائے۔اور قرآن کو لے لیا جائے تو اس پر مولوی محمد حسین صاحب کو نہایت غصہ آیا اور کہا یہ حدیث بخاری میں نہیں ہے۔اور جو یہ حدیث بخاری میں ہو تو میری دونوں بیویوں پر طلاق ہے اس طلاق کے لفظ سے تمام لوگ ہنس پڑے اور مولوی صاحب کو مارے شرم کے اور کچھ نہ بن پڑا۔اور بعد کو کئی روز تک لوگوں سے مولوی صاحب کہتے رہے کہ نہیں نہیں میری دونوں بیویوں پر طلاق نہیں پڑی۔اور نہ میں نے طلاق کا نام لیا ہے۔پہلے تو چند لوگوں کو اس کی خبر تھی لیکن اب مولوی صاحب ہی نے ہزاروں کو اس کی اطلاع کر دی غرضکہ مولوی صاحب کو اس مباحثہ میں ہر لحاظ سے شکست ہوئی۔مگر مولوی صاحب کی دیدہ دلیری کہ اپنی خفت مٹانے کے لئے انہوں نے یکم اگست ۱۸۹۱ء کو ایک لمبا چوڑا اشتہار شائع کیا جو ہر قسم کے مفتریات کا مجموعہ تھا۔کئی ماہ بعد جبکہ یہ مباحثہ شائع ہو چکا تھا۔دلی میں ایک جلسہ منعقدہ ہوا۔جس میں بہت سے علماء نے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی پر زبردست تنقید کی کہ تم نے جو مرزا صاحب سے لدھیانہ میں مباحثہ کیا ہے اس میں تم نے کیا کیا اور کیا کر کے دکھایا اصل بحث تو کچھ بھی نہ ہوئی بٹالوی صاحب نے جواب دیا کہ اصل بحث کس طرح کرتا۔اس کا پتہ ہی نہیں۔قرآن شریف میں مسیح کی حیات یا رفع الی السماء کا کوئی ذکر نہیں۔حدیثوں سے صرف نزول ثابت ہوتا ہے میں مرزا صاحب کو حدیثوں پر لاتا تھا اور وہ مجھے قرآن کی طرف لے جاتے تھے۔پھر ان علماء نے کہا کہ مرزا صاحب نے تو بحث چھاپ دی تم نے اب تک کیوں نہ چھاپی۔بٹالوی صاحب نے کہا اشاعتہ السنہ میں چھاپوں گا۔انہوں نے کہا اس بحث کو الگ رسالہ کی شکل میں مکمل کر کے چھپوانا تھا۔اس طرح علماء نے انہیں بہت شرمندہ کیا۔IA میر عباس علی صاحب کا ارتداد میر عباس علی صاحب بظاہر تو ابھی تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ہی نظر آتے تھے مگر حقیقت یہ ہے کہ حضرت اقدس سے ان کی عقیدت سفر علی گڑھ کے دوران ہی میں روبہ تنزل ہو چکی تھی۔اور وہ