تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 414
تاریخ احمدیت۔جلدا ۱۳ علماء دقت کو تحریری مباحثہ کی دعوت علیہ السلام کے نمونہ پر آیا ہوں تو یہ بھی ضرور تھا کہ میرے بعض مدعیان اخلاص کے واقعات میں بھی وہ نمونہ ظاہر ہو تا۔یہ بات ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بعض خاص دوست جو ان کے ہم نوالہ و ہم پیالہ تھے۔جن کی تعریف میں وحی الہی بھی نازل ہو گئی تھی۔آخر مسیح سے منحرف ہو گئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سفر امرتسر اور لدھیانہ میں دوبارہ تشریف آوری مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے شکست کھانے کے بعد اپنی ندامت چھپانے کے لئے لدھیانہ میں ایک شورش سی برپا کر دی۔لدھیانہ کے ڈپٹی کمشنر صاحب کو اندیشہ ہوا کہ کہیں فساد نہ ہو جائے اس لئے ان کو لدھیانہ سے رخصت کر دینے کا حکم دیدیا۔اس کام کے لئے ڈپٹی کمشنر صاحب نے ڈپٹی دلاور علی اور کریم بخش تھانہ دار کو مقرر کیا۔ان لوگوں نے مولوی محمد حسین صاحب کو ڈپٹی کمشنر کا حکم سنایا اور وہ لدھیانہ سے چل دیئے۔پھر وہ حضرت اقدس کی طرف آئے اور سڑک پر کھڑے ہو کر اندر آنے کی اجازت چاہی حضرت اقدس نے ان کو اجازت دے دی۔اور اندر بلالیا۔وہ ڈپٹی کمشنر کا یہ پیغام لائے تھے کہ لدھیانہ میں فساد کا اندیشہ ہے بہتر ہے کہ آپ کچھ عرصہ کے لئے یہاں سے تشریف لے جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اب یہاں ہمارا کوئی کام نہیں ہے ہم جانے کو تیار ہیں لیکن سر دست ہم سفر نہیں کر سکتے کیونکہ بچوں کی طبیعت اچھی نہیں ہے انہوں نے کہا کہ خیر کوئی بات نہیں ، ہم ڈپٹی کمشنر سے کہ دیں گے اور ہمیں آپ کی ملاقات کا بہت شوق تھا سو شکر ہے کہ اس بہانہ سے زیارت ہو گئی۔اس کے بعد حضرت صاحب اندرون خانہ تشریف لے گئے اور ایک چٹھی ڈپٹی کمشنر کے نام لکھ کر لائے۔جس میں اپنے خاندانی حالات اور اپنی تعلیم وغیرہ کا ذکر فرمایا۔اور بعض خاندانی خطوط کی نقول بھی منسلک فرما دیں۔چٹھی کا انگریزی ترجمہ منشی غلام قادر صاحب فصیح نے کیا۔دراصل ڈپٹی دلاور علی کو ڈپٹی کمشنر کا حکم سمجھنے میں غلطی ہو گئی تھی۔ڈپٹی کمشنر صاحب کا منشاء صرف مولوی محمد حسین صاحب کے اخراج کا تھا۔تاہم یہ چٹھی ارسال کرنے کے بعد حضرت اقدس احتیاطاً لدھیانہ سے امر تسر تشریف لے آئے۔اس سفر میں حضور نے مفتی محمد صادق صاحب کو بھی ساتھ چلنے کی ہدایت کی۔صبح کے وقت گاڑی