تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 402
تاریخ احمد بیت - جلدا ہوا۔۴۰۱ علماء وقت کو تحریری مباحثہ کی دعوت مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کا مباحثہ تحریری سے انکار اسی دوران میں پیر سراج الحق صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ سب لوگوں کی نظر مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کی طرف لگ رہی ہے اگر حکم ہو تو مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کو لکھوں کہ وہ مباحثہ کے لئے آمادہ ہوں۔فرمایا اگر تمہارے لکھنے سے آمادہ ہوں تو ضرور لکھ دو۔چنانچہ انہوں نے اس بارہ میں ایک خط لکھ کر گنگوہ بھجوا دیا۔مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی اور پیر صاحب موصوف ہمزلف بھی تھے اور ویسے بھی ان سے تعلقات رکھتے تھے لیکن جوں ہی ان کو یہ خط پہنچا مولوی صاحب اور ان کے معتقدوں اور شاگردوں نے ایک شور برپا کر دیا۔مولوی رشید احمد صاحب نے اس خط کے جواب میں لکھا کہ میں بحث کو مرزا صاحب سے منظور کرتا ہوں لیکن تقریری اور صرف زبانی۔تحریری مجھ کو ہرگز ہرگز منظور نہیں ہے اور عام جلسہ میں بحث ہو گی اور وفات وحیات مسیح میں کہ یہ فرع ہے بحث نہیں ہو گی بلکہ بحث نزول مسیح میں ہوگی جو اصل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خط دیکھ کر پیر صاحب کو ارشاد فرمایا کہ آپ اس کے جواب میں یہ لکھ دیں کہ بحث تحریری ہونی چاہیے۔تا حاضرین کے علاوہ غائبین کو بھی پورا پورا حال معلوم ہو جائے۔اس طرح فرمایا کہ وفات و حیات فرع کس طرح ہوئی اصل مسئلہ تو وفات وحیات مسیح ہی ہے اگر حیات مسیح ثابت ہو گئی تو نزول بھی ثابت ہو گیا اور جو وفات ثابت ہو گئی تو مسیح کا بجسد عصری نزول خود بخود باطل ہو گیا۔ہمارے دعوی کی بنیاد یہی وفات مسیح پر ہے اگر مسیح کی زندگی ثابت ہو جائے۔تو ہمارے دعوے میں کلام کرنا فضول ہے۔مولوی رشید احمد صاحب نے اس خط کے جواب میں لکھا کہ افسوس ہے مرزا صاحب اصل کو فرع اور فرع کو اصل قرار دیتے ہیں۔بہر حال تقریری کی بجائے تحریری مباحثہ میں نہیں کرتا۔دو سجادہ نشینوں کو دعوت یہاں سے مایوس ہو کر پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے دو من دو مشہور سجادہ نشینوں (میاں اللہ بخش صاحب تونسوی سنکھڑی اور شاہ نظام الدین صاحب بریلوی نیازی کی طرف توجہ کی اور انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے علمی یا روحانی طریق سے مقابلہ کرنے کی دعوت دی۔یہ دعوت نامہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پسند فرمایا اور اپنے دستخط کر کے یہ تحریر فرمایا کہ میں روحانی باطنی اور علمی مقابلہ کے لئے تیار ہوں اور جو کچھ