تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 401 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 401

تاریخ احمدیت۔جلدا ۴۰۰ علماء وقت کو تحریری مباحثہ کی دعوت علماء وقت کو تحریری مباحثہ کی دعوت حضرت اقدس کا یہ سفر چونکہ اتمام حجت کی غرض سے تھا اس لئے حضور نے لدھیانہ سے ۲۶۔مارچ ۱۸۹۱ء کو ایک اشتہار کے ذریعہ تمام مشہور علماء بالخصوص مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی (۱۸۲۸ - ۱۹۰۵) مولوی عبد الجبار صاحب غزنوی (۱۸۵۲ - ۱۹۱۳) مولوی عبد الرحمن صاحب لکھو کے والے مولوی شیخ عبدالله صاحب تبتی مولوی عبد العزیز صاحب لدھیانوی اور مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری کو تحریری مباحثہ کا چیلنج دیا اور لکھا کہ میرا دعوئی ہرگز قال اللہ اور قال الرسول کے خلاف نہیں اگر آپ حضرات مقام و تاریخ مقرر کر کے ایک عام جلسہ میں مجھ سے تحریری بحث نہیں کریں گے تو آپ خدا تعالٰی اور اس کے راست باز بندوں کی نظر میں مخالف ٹھہریں گے۔حضرت اقدس کے اس اشتہار پر لدھیانہ کے مولوی دبک گئے اور بحث کے لئے آمادہ نہ ہوئے مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کے ایک مرید اور دست و بازو مولوی شاہ دین صاحب تھے انہوں نے اپنے پیرو مرشد (مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی) کو لکھا کہ میں مرزا صاحب سے مباحثہ کروں تو کس طرح کروں اور کسی مسئلہ میں کروں۔جواب آیا کہ مرزا صاحب سے بحث کرنا تمہارا کام نہیں اول تو ٹال دینا اور جو بات نہ ملے اور مباحثہ ہو ہی جائے تو وفات وحیات مسیح علیہ السلام میں ہر گز بحث نہ کرنا۔اس میں تمہارا یا کسی کا ہاتھ نہیں پڑے گا۔ہاں نزول میں بحث کر لیتا اس مسئلہ میں ہماری کچھ جیت ہو سکتی ہے۔چنانچہ مولوی شاہ دین کو جب بحث کے لئے اصرار سے کہا جانے لگا تو انہوں نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ مرزا صاحب بے علم ہیں۔میری شان سے بعید ہے کہ ایک بے علم آدمی سے بحث کروں۔لدھیانہ میں ایک اور مولوی مشتاق احمد صاحب امیٹھوی تھے جنہیں اپنی حدیث دانی پر بڑا ناز تھا یہ صاحب گنگوہ پہنچے ان کو بھی وہاں سے وہی جواب ملا جو مولوی شاہ دین کو ملا تھا، لدھیانہ دیو بند سہارنپور، گنگوہ میں اس بارہ میں خفیہ مشورے ہوئے کہ کیا کرنا چاہے لیکن مباحثہ کے لئے کوئی آمادہ نہ