تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 403 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 403

تاریخ احمدیت جلدا ۴۰۲ علماء وقت کو تحریری مباحثہ کی دھوت صاجزادہ صاحب نے لکھا ہے درست ہے اور میں مسیح موعود او را امام مہدی معہود ہوں۔مسیح بے شک فوت ہو چکے ہیں وہ اب نہیں آئیں گے۔چونکہ آپ گدی نشین ، سجادہ نشین ، صوفی اور پیر ہیں اس معاملہ میں خواہ تحریری خواه باطنی قوت قلبی یا دعا سے مقابلہ کریں تا حق ظاہر ہو اور باطل مٹ جاوے سنگھڑ سے تو اس خط کا کوئی جواب موصول نہ ہوا البتہ بریلی سے شاہ نظام الدین صاحب نے معذرت کرتے ہوئے لکھا کہ "فقیر میں اتنی قوت نہیں ہے کہ جو مقابلہ کر سکے یا اس باطنی و روحانی طور سے مقابل پر کھڑا ہو سکے۔یہ کام تو مولویوں اور علماء کا ہے آپ بھی تو صوفی اور درویش اور چار قطب ہانسوی اور امام اعظم رحمتہ اللہ علیہم اجمعین کے پوتے ہیں ہمیں آپ پر حسن ظن ہے۔اور جیسا کچھ اللہ تعالی کو منظور ہو گا۔وہ ہو رہے گا۔مجھے آپ معاف فرما ئیں" - مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کو حضرت اقدس نے یہ خط پڑھ کر فرمایا۔تونسوی متکبر کو دیکھو کہ جو اب تک نہیں دیا۔مگر یہ کیسے تقریری مباحثہ کی دعوت اور ان کا انکار منکسر المزاج ہیں۔نیز حضور نے پیر سراج الحق صاحب سے فرمایا کہ مولوی رشید احمد صاحب کو لکھ دیا جائے کہ اچھا ہم بطریق تنزل تقریری مباحثہ منظور کرتے ہیں مگر اس شرط سے کہ آپ تقریر کرتے جائیں اور دوسرا شخص آپ کی تقریر لکھتا جائے اور جب تک ایک کی تقریر ختم نہ ہو۔دوسرا فریق یا کوئی اور دوران تقریر میں نہ بولے۔پھر دونوں تقریریں شائع ہو جائیں لیکن بحث لاہور میں ہو۔کیونکہ لاہور علوم و فنون کا مرکز ہے۔پیر صاحب نے حضرت اقدس کا یہ پیغام مولوی صاحب کو بھیج دیا۔وہاں سے جواب آیا کہ تقریر صرف زبانی ہوگی۔لکھنے یا کوئی جملہ نوٹ کرنے کی کسی کو اجازت نہ ہو گی۔اور حاضرین میں سے جس کے جی میں جو آئے گاوہ رفع اعتراض و شک کے لئے بولے گا۔میں لاہور نہیں جاتا۔مرزا صاحب بھی سہارنپور آجا ئیں اور میں بھی سہارنپور آجاؤں گا۔حضرت اقدس نے فرمایا۔سہارنپور میں مباحثہ کا ہو نا مناسب نہیں ہے سہارنپور والوں میں فیصلہ کرنے یا حق و باطل کی سمجھ نہیں ہے۔لاہور آج دار العلوم اور مخزن علم ہے اور ہر ایک ملک اور شہر کے لوگ اور ہر مذہب وملت کے اشخاص وہاں موجود ہیں۔آپ لاہور چلیں میں بھی لاہور چلا جاتا ہوں اور آپ کا خرچ آمد و رفت اور قیام لاہور ایام بحث تک اور مکان کا کرایہ اور خرچ میرے ذمہ ہو گا یہ مضمون پیر صاحب نے حضرت اقدس علیہ السلام کے دستخط سے گنگوہ بھیج دیا۔مولوی رشید احمد صاحب نے اس خط کے جواب میں پھر یہی لکھا کہ میں لاہور نہیں جاتا صرف سہارنپور تک آسکتا ہوں۔اور تحریری بحث مجھے منظور نہیں اور تقریر بھی کسی دوسرے شخص کو لکھنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔